ہیمنت کاولے اپنے نام سے پہلے ایک اور صفت کا اضافہ کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔
’’میں پڑھا لکھا ہوں، بے روزگار ہوں، اور…غیر شادی شدہ ہوں،‘‘ ۳۰ سالہ یہ نوجوان اپنے کنوارے پن پر طنز کرتے ہوئے اپنا اور دیگر نوجوان کسانوں کا مذاق اڑاتا ہے۔
’’سشکشکت۔ بےروزگار۔ اویواہت۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہیں، اور ان کے چھوٹے سے پان کے اسٹال پر موجود ان کے دوست (جن کی عمریں ۳۰ سے تجاوز کر چکی ہیں) مجبوراً غیر شادی شدہ ہونے کے اپنے غصے اور شرمندگی کو چھپانے کی کوشش میں کھسیانی ہنسی ہنستے ہیں۔ گویا یہ لطیفہ ان پر بھی صادق آتا ہے۔
’’یہ ہمارا بنیادی ایشو ہے،‘‘ معاشیات میں ایم اے کر چکے ہیمنت کہتے ہیں۔
ہم شِیلوڈی گاؤں میں ہیں۔ یہ گاؤں کپاس کا کٹورا کہے جانے والے ودربھ کے یوتمال-داروہا روڈ پر واقع ہے۔ زرعی خودکشی سے متاثر مشرقی مہاراشٹر کا یہ خطہ طویل عرصے سے زرعی بحران اور نقل مکانی کے سائے میں ہے۔ نوجوانوں کا گروپ اس اسٹال کے سائے میں وقت گزار رہا ہے جسے ہیمنت نے گاؤں کے مرکزی چوک پر لگا رکھا ہے۔ وہ سب گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ ہیں؛ ان سب کے نام پر زرعی زمینیں ہے۔ وہ سب بے روزگار ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی شادی شدہ نہیں ہے۔
ان میں سے بیشتر نے دور دراز شہروں جیسے پونے، ممبئی، ناگپور یا امراوتی میں قسمت آزمائی کی ہے۔ وہاں معمولی تنخواہوں پر کچھ دنوں تک کام کیا ہے۔ وہ ریاستی یا یونین پبلک سروس کمیشن یا دیگر ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات میں شامل ہوکر ناکام ہو چکے ہیں۔
اس علاقے کے، اور شاید ملک کے زیادہ تر نوجوانوں کی طرح ہیمنت بھی اس خیال کے سے ساتھ بڑے ہوئے کہ نوکری حاصل کرنے کے لیے انہیں بہتر تعلیم کی ضرورت ہے۔
اب انہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دلہن حاصل کرنے کے لیے بھی انہیں ایک مستقل سرکاری نوکری کی ضرورت ہے۔
سرکاری نوکریں کی کمی کی وجہ سے ہیمنت اپنی خاندانی زمین پر کھیتی کرنے گاؤں واپس آ گئے ہیں اور ایک اضافی کاروبار کے طور پر گاؤں میں ایک اسٹال لگا لیا ہے۔
’’میں نے ایک پان کا اسٹال لگانے کا فیصلہ کیا، ایک دوست سے رسونتی [گنے کے رس کا اسٹال] چلانے کو کہا، اور دوسرے دوست سے ناشتے کا اسٹال لگانے کو کہا، تاکہ ہم کچھ کاروبار کر سکیں،‘‘ خوش طبع ہیمنت کہتے ہیں۔ ’’پونے میں ایک پوری چپاتی کھانے کی بجائے، اپنے گاؤں میں آدھی چپاتی کھانا کبھی بھی بہتر ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔









