امباپانی کے باشندے پارلیمانی انتخاب کے ایک یا دو امیدواروں کی میزبانی کر کے، انہیں گھر کی چکی میں پسے مکئی کے تازہ آٹے کی بھاکری کھلا کر، یا تفریح کے دوران بچوں کے ذریعے پیڑوں سے توڑ کر لائے گئے میٹھے چرولی کے پھل کھلا کر اس موقع سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔
پھر بھی کسی قابل ذکر سیاسی نمائندے نے کبھی یہاں کا دورہ نہیں کیا۔ پانچ دہائیوں میں تو بالکل کبھی نہیں، جب لوگوں نے پہلی دفعہ بانس، مٹی اور گوبر سے اپنے گھر بنائے تھے۔ ستپوڑا کی پہاڑیوں کی پتھریلی اور ناہموار ڈھلوانوں کے ایک سلسلے میں بکھری ہوئی یہ بستی آمد و رفت کے قابل قریب ترین سڑک سے ۱۳ کلومیٹر اوپر کی طرف واقع ہے۔
امباپانی کی آبادی ۸۱۸ ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔ یہاں نہ تو سڑک تک رسائی ہے، نہ بجلی کی لائنیں ہیں، نہ پانی ہے، نہ موبائل فون کے نیٹ ورک ہیں، نہ مناسب قیمت کی دکان ہے، نہ کوئی بنیادی صحت کا مرکز یا کوئی آنگن واڑی مرکز ہی ہے۔ یہاں کے تمام رہائشیوں کا تعلق ریاست میں درج فہرست قبائل کے طور پر درج پاورا برادری سے ہے۔ یہاں آباد ۱۲۰ کنبوں میں سے زیادہ تر اپنا سلسلہ نسب چار یا پانچ بڑے قبیلوں سے جوڑتے ہیں جن کی جڑیں مدھیہ پردیش سے وابستہ ہیں۔ مدھیہ پردیش یہاں سے بمشکل ۳۰ کلومیٹر کی دوری پر شمال کی جانب ہے۔
نیٹ ورک شیڈو ژون میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں نہ تو ٹیلی ویژن سیٹ ہیں اور نہ ہی اسمارٹ فون۔ خواتین کے منگل سوتروں کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی انتباہات سے لے کر آئین کی حفاظت پر کانگریس کی تاکید تک، ۲۰۲۴ کی لوک سبھا مہم کی سب سے تند اور سخت آوازیں بھی امباپانی کے ووٹروں تک نہیں پہنچی ہیں۔
اُنگیا گُرجا پاورا کہتے ہیں کہ ’’شاید سڑک‘‘ یہاں ایک پرکشش انتخابی وعدہ ہوسکتی ہے۔ ان کی عمر ۵۶ سال ہے اور وہ اس بستی کے اصل آباد کاروں میں سے ایک کی اولاد ہیں۔ تقریباً ایک دہائی قبل جب انہوں نے اپنی بچت کے پیسوں سے اسٹیل کی ایک الماری خریدی تھی، تو چار آدمی ۷۵ کلو وزنی الماری کو ’’اسٹریچر کی طرح‘‘ اٹھا کر اوپر بستی میں لے آئے تھے۔
زرعی پیداواروں کو ۱۳ کلومیٹر نیچے ڈھلوان پر واقع موہرالے کے بازار میں دو پہیوں کی سواریوں پر ایک ایک کوئنٹل کی کھیپ میں لاد کر لے جایا جاتا ہے۔ تیز ڈھلواں سطح سے گزرتی کچی سڑک کے ساتھ کئی اتار چڑھاؤ، تند اور تیکھے موڑ، بکھرے ہوئے پتھر اور پہاڑی نالوں کے سلسلے بھی چلتے ہیں، اور کبھی کبھی کسی ہندوستانی ریچھ سے بھی سامنا ہوجاتا ہے۔
اُنگیا کہتے ہیں، ’’تاہم، دوسری طرف یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ آیا سڑک کی تعمیر درختوں کی غیر قانونی کٹائی کو فروغ تو نہیں دے گی۔‘‘



















