ان کے گھر جاتے وقت ہم ایک موڑ سے گزرتے ہیں۔ ’’کسان اور مزدور ایک دوراہے پر کھڑے ہیں،‘‘ کرشن کہتے ہیں۔ ’’ہم چوطرفہ مار جھیل رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ ’سام، دام، دنڈ، بھید‘ سب ترکیبیں آزمائی جا رہی ہیں۔‘‘ وہ کوٹلیہ یعنی چانکیہ، جنہیں ایک قدیم ہندوستانی استاد، حکمت ساز اور بادشاہ کے مشیر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کے ذریعہ لکھے گئے ’ارتھ شاستر‘ (اقتصادیات) میں درج حکمرانی کے چار بنیادی اصولوں – تحمل، دولت کا استعمال اور لالچ، ظلم اور طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے اپنی بات کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن کرشن، چانکیہ کا ذکر جدید سیاق و سباق میں کرتے ہیں!
’’برسر اقتدار پارٹی [بی جے پی] نے دہلی کی سرحد پر ۷۰۰ سے زیادہ کسانوں کی موت کی کوئی ذمہ داری نہیں لی،‘‘ کسانوں کے ذریعہ ۲۰۲۰ کے تاریخی احتجاجی مظاہرے کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں اور بی جے پی کے کسان مخالف قوانین – جسے مسلسل تنقید کے سبب تقریباً ایک سال بعد واپس لے لیا گیا – کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
’’آپ کو یاد ہونا چاہیے، کیسے ٹینی [بی جے پی لیڈر کے بیٹے] نے کسانوں کو لکھیم پور کھیری میں روند ڈالا تھا۔ یہ مارنے میں کنجوسی نہیں کرتے،‘‘ ۲۰۲۱ میں اتر پردیش میں رونما ہونے والے اس واقعہ کی یاد آج بھی ان کے دماغ میں تازہ تھی۔
بی جے پی نے جنسی استحصال کے ملزم اپنے ہی رکن پارلیمنٹ اور ہندوستانی کشتی ایسوسی ایشن (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ یہ بات بھی کرشن جیسے لوگوں کے حلق میں نہیں اتری تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’’پچھلے سال ساکشی ملک اور دیگر مشہور خواتین پہلوان مہینوں تک نئی دہلی میں دھرنے پر بیٹھی رہیں۔ وہ رکن پارلیمنٹ کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہی تھیں، جس پر متعدد خواتین، جس میں ایک نابالغ بھی تھی، کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے۔‘‘
سال ۲۰۱۴ میں، بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کو ہر حال میں کنٹرول کرے گی۔ ’’ان وعدوں کا کیا ہوا؟‘‘ کرشن پوچھتے ہیں۔ ’’انہوں نے سوئٹزرلینڈ سے کالا دھن واپس لانے اور ہمارے اکاؤنٹ میں ۱۵ لاکھ روپے ڈالنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن آخر میں ہمیں بھوک اور راشن کے سوا کیا ملا!‘‘