’’کوڈی، کوڈی، کوڈی، کبڈی، کبڈی، کبڈی...‘‘
مٹی کے دائرہ کے اندر آوازیں بلند ہوتی جارہی تھیں – ریڈروں (حملہ آوروں) اور اسٹاپروں (دفاع کرنے والوں) کے درمیان مقابلہ کا منظر سامنے تھا۔ مقام تھا دہلی کے باہر سنگھو اور ٹکری بارڈروں پر ۲۰۲۰-۲۰۲۱ کے کسانوں کے احتجاج کا۔ کبڈی کا رواں تبصرہ مزاحمتی نعروں اور تقریروں میں مدغم ہو رہا تھا۔ لاکھوں کسانوں اور زرعی مزدوروں نے یہاں اس وقت تک احتجاج کیا تھا جب تک کہ تین زرعی قوانین کو منسوخ نہیں کر دیا گیا۔
ستمبر ۲۰۲۱ میں ہفتہ بھر کے ٹورنامنٹ کے اختتام پرایک نیا کھلاڑی ابھرا۔ یہ کھلاڑی تھا روہتک ہریانہ سے تعلق رکھنے والا شیلو بلہارا۔ شیلو بلہارا نے بعد میں پنجاب کے کبڈی ستاروں کی اُس لیگ میں شمولیت اختیار کی، جہاں کم آمدنی والے اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو مالی طور پر مضبوطی مل رہی ہے۔
سرکل اسٹائل (دائرہ کار طرز کی) کبڈی ان اولین کھیلوں میں سے ایک ہے، جسے پنجاب کے گاؤوں کے لڑکے کھیلتے ہیں۔ اس کھیل کو پسند کیے جانے کی وجہ اس کی سادگی میں مضمر ہے۔ اس میں کسی ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اکثر کھلاڑی جوتے بھی نہیں پہنتے ہیں۔ کھیل کے اصول و ضوابط سادہ ہیں اور یہ مٹی پر کھیلی جاتی ہے۔
چونکہ یہ کھیل جسمانی طور پر سخت محنت کا مطالبہ کرتا ہے، اس لیے یہ ان نوجوانوں کے لیے ایک اضافی کشش ہے، جو مضبوط باڈی (جسم) بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ کھیل – جسے پنجاب طرز کی کبڈی بھی کہا جاتا ہے – میلوں، عوامی اجتماعات اور مقامی ٹورنامنٹوں میں کھیلا جاتا ہے۔
پنجاب میں کبڈی کا موسم زرعی کیلنڈر کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ اکتوبر میں، فصل کی بوائی کے بعد شروع ہوتا ہے اور اپریل تک جاری رہتا ہے، جب فصل کی کٹائی شروع ہوتی ہے۔




















