زندگی اور محبت کے گیت گاتا چرواہا
ستیہ جیت مورانگ کا تعلق آسام کی میسنگ کمیونٹی سے ہے۔ اس ویڈیو میں، وہ اوئی نیٹم اسٹائل میں محبت کے گیت گاتے ہوئے دریائے برہم پتر کے جزیروں پر بھینس چرانے والوں کے بارے میں بتا رہے ہیں



ستیہ جیت مورانگ کا تعلق آسام کی میسنگ کمیونٹی سے ہے۔ اس ویڈیو میں، وہ اوئی نیٹم اسٹائل میں محبت کے گیت گاتے ہوئے دریائے برہم پتر کے جزیروں پر بھینس چرانے والوں کے بارے میں بتا رہے ہیں
پچیس سالہ گلوکار مڈول، جھومور ڈھول اور بانسری کے ساتھ جھومور اسٹائل میں گاتے ہوئے ایک جامع آسام کے بارے میں بتا رہے ہیں
اپنی شعلہ انگیز شاعری سے مراٹھواڑہ میں ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کی دہائی میں نامانتر تحریک کی سمت و رفتار طے کرنے والے شاہیر (شاعر) آتما رام سالوے کی سالگرہ کے موقع پر انہیں خراج عقیدت۔ ان کے گانے آج بھی دلتوں کے حقوق کی لڑائی کو متحرک کرتے ہیں
امبیڈکر جینتی کے موقع پر شاعر آتما رام سالوے کا نغمہ سامعین کو پرانی روش ترک کرکے بابا صاحب کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے کی تلقین کرتا ہے
جورہاٹ کے رہنے والے سنتو تانتی جھومور کے گیتوں پر اپنے ویڈیو بناتے ہیں۔ جھومور، مشرقی ہندوستان کی کئی ریاستوں کے فوک آرٹ کا حصہ ہے۔ حالانکہ، وہ جو گیت گاتے ہیں انہیں آسام کے چائے کے باغات میں کام کرنے والی کئی نسلیں گاتی رہی ہیں
سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں
بانسری بنانے والے، چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے گونڈ آدیواسی، منی رام منڈاوی اُس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب جنگل جانوروں، درختوں اور اُس بانس سے بھرے ہوتے تھے جس سے وہ ایک خاص قسم کی ’گھمانے والی بانسری‘ بناتے ہیں
کالا ہانڈی ضلع میں، دولیشور ٹانڈی – ’رَیپَر دُلے راکر‘ – جو ٹیوشن پڑھاتے ہیں، تعمیراتی جگہوں پر کام کرتے ہیں اور کبھی کبھی مہاجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن میں مہاجرین کی زبوں حالی پر اس گانے کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں
ہارمونیم کی مرمت کرنے والے جبل پور، مدھیہ پردیش کے کئی کاریگر لاک ڈاؤن کے سبب دو مہینے سے مہاراشٹر کے ریناپور میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاری کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتایا
پرئی فنکار منی مارن اور ماگیژینی اس لاک ڈاؤن کے دوران سوشل میڈیا کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے فنی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہیں اور بات چیت اور ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے کووِڈ- ۱۹ کے بارے میں بیداری مہم چلا رہے ہیں
اس مراٹھی رَیپ گانے میں اجیت شیلکے یا ’رَیپ باس‘ مہاراشٹر کے کسانوں کے سنگین بحران کے بارے میں پُر زور طریقے سے گا رہے ہیں: ’میں دیکھ رہا ہوں کہ چُننے کے لیے اب صرف ایک ہی متبادل بچا ہے، اپنے گلے میں کیا میں پھانسی کا پھندہ لگا لوں؟‘
اوڈیشہ کی نیامگیری پہاڑیوں میں رہنے والے آدیواسیوں نے کانکنی کے خلاف اپنی لڑائی تو ۲۰۱۳ میں ہی جیت لی تھی، لیکن اُن کی آبائی زمین کو اب بھی خطرہ لاحق ہے۔ وہاں کے ایک شاعر اور سماجی کارکن، راج کشور سُنانی نے حالیہ دنوں منعقد ہونے والے نیامگیری میلہ میں انہی حالات پر مبنی ایک گیت سنایا
مغربی بنگال کے بیشائے پور گاؤں کے رہنے والے راجو چودھری ایک داستان گو، بے چین گلوکار، ایک بہروپیا ہیں۔ ان کی آمدنی اوسط ہے اور کام مشکل۔ یہ فلم خیالی تارا سُندوری کی شکل میں ان کے حیران کن رقص پر مبنی ہے
کسانوں کی روحانی اذیت پر مبنی ایک جذباتی نظم، ویڈیو کے ساتھ، ان کسانوں نے ۶ مارچ سے ۱۲ مارچ، ۲۰۱۸ تک ناسک سے ممبئی تک ۱۸۰ کلومیٹر تک مارچ کیا، اس شدید خواہش کے ساتھ کہ ان کی آواز سنی جائے گی، اور پورے عزم کے ساتھ
یہی اس نظم کا عنوان ہے، جسے سویَش کامبلے نے اس سال یکم جنوری کو کورے گاؤں بھیما میں تشدد دیکھنے کے بعد غصے اور ناراضگی میں لکھی تھی۔ کولہاپور ضلع کے شِردواڑ گاؤں کا رہنے والا یہ ۲۰ سالہ دلت شاعر ایک صحافی بننا چاہتا ہے، کیوں کہ اس کا کہنا ہے، ’... ایک اچھا صحافی کبھی خاموش نہیں رہے گا‘
مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے شیام باٹی گاؤں کی رہنے والی برشا گرائے اپنی عمر کی واحد لڑکی ہے، جو چار سال کی عمر سے ہی نامور باؤل موسیقار باسودیب داس سے تربیت لے رہی ہے، اور فلسفیانہ باؤل گانے گا رہی ہے
پُنے ضلع کے نند گاؤں کے ضلع پریشد پرائمری اسکول کے بچے برابری اور انصاف کا گانا گا رہے ہیں جو ۱۳۰۰ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں اب بھی حاصل نہیں ہو پایا ہے – ۱۴ نومبر، یومِ اطفال کے موقع پر ایک یاد دہانی کے طور پر
یہاں پیش کیے جا رہے آڈیو گانوں میں، چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع کے پھرسے گڑھ گاؤں کے ایک رہائشی اسکول کی آدیواسی لڑکیاں درختوں اور کھیتوں، دوستوں اور کنبوں، کپڑے پہہنے اور رقص کرنے، اور ترنگا کے بارے میں گا رہی ہیں
پُنے ضلع کے مالتھن گاؤں میں واقع ایک پرائمری اسکول میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں کھیل کے وقفہ کے دوران بچوں کی موج مستی دیکھنے لائق تھی
موسیقی کا باؤل کلچر، زندگی کے اتحاد پسندانہ فلسفہ کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پر دکھائی جا رہی فلم میں، بیربھوم ضلع کے بولپور سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اور ٹیچر، باسودیب داس باؤل، زندگی کے اس طریقہ اور آرٹ کی شکل کے بارے میں بتا رہے ہیں
شاہیر آتما رام سالوے ماجل گاؤں تعلقہ کے ایک دلت شاعر تھے، جن کی شاعری کی قدر نہیں کی گئی۔ ان کے بیٹے پردیپ نے سالوے کے شعری مجموعہ ’ٹھنگی‘ یا چنگاری سے ایک انقلابی گانا ہمیں گاکر سنایا
اتراکھنڈ کے کُماؤں علاقے کے گاؤوں میں، ہولی کا تہوار وہ موقع ہوتا ہے جب عورتیں جم کر ناچتی ہیں اور ان کے گائے گیت پہاڑوں میں گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ عالمی یومِ خواتین پر مبنی پاری کی سیریز کے تحت پیش ہے یہ فوٹو اسٹوری
فصلوں کی کٹائی کے موسم میں، بہار کی چرچریا بستی میں رہنے والی سنتال عورتیں اپنی طریق زندگی کے بارے میں گانا گاتی ہیں جب کہ مرد ساز بجاتے ہیں، اور اس موقع پر دعوت کھانا اور مہوا بھی ہوتا ہے
کیرالہ کی ایڈوکی پہاڑیوں میں بنے ایڈمالا کوڈی پرائمری اسکول میں پڑھنے والے آدیواسی لڑکے اپنی مضبوط آواز میں کسی ڈاکٹر کے لیے ایک گیت گا رہے ہیں۔ دراصل ان کا مقابلہ اچھے سُروں میں ’پوٹیٹو سانگ‘ گانے والی اپنی ہی کلاس کی لڑکیوں سے ہے
سندربن میں سنتال، مُنڈا، اوراؤں اور ہو گروپ کے گانے اور ڈانس انھیں اپنی زبان کو بچائے رکھنے اور آمدنی کمانے میں مدد کرتے ہیں
ایڈمالا کوڈی کی آدیواسی لڑکیاں اس آلو کے اعزاز میں انگریزی میں ایک انوکھا گانا گاتی ہیں، جسے وہ نہیں کھاتیں۔ وہ یہ گانا اس گاؤں میں گا رہی ہیں، جہاں انگریزی نہیں بولی جاتی
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/دیہی-ہندوستان-کے-گلوکار-اور-شاعر