پروین کمار بیساکھی کے ساتھ جہاں اسکوٹر پر بیٹھے ہیں، اور ایک ہاتھ میں برش پکڑے اپنے آس پاس کے لوگوں سے بات کر رہے ہیں، وہیں قریب میں ایک بڑا کینوس ہے – ۱۸ فٹ لمبا – جس پر انہوں نے سنگھو میں احتجاج کر رہے کسانوں کی کچھ تصویریں بنائی ہیں۔
پروین لدھیانہ سے تقریباً ۳۰۰ کلومیٹر کا سفر کرکے سنگھو پہنچے ہیں، جہاں وہ آرٹ کے ایک ٹیچر اور مصور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنا تعاون دینے کے لیے، مجبور ہوکر، وہ ۱۰ جنوری کو ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع اس احتجاجی مقام پر پہنچے۔
’’میں اپنی تشہیر نہیں کر رہا ہوں، بھگوان نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، مجھے اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ میرے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ میں اب اس تحریک کا حصہ ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
’’میں ۷۰ فیصد معذور ہوں،‘‘ وہ اپنے پیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، جو پولیو کی وجہ سے تین سال کی عمر میں فالج زدہ ہو گیا تھا۔ نہ تو یہ، اور نہ ہی ان کی فیملی کی شروعاتی ناراضگی انہیں سنگھو آنے سے روک سکی۔
۴۳ سالہ پروین نے لدھیانہ میں ہی بڑے کینوس پر پینٹنگ شروع کردی تھی اور اسے سنگھو تک لے آئے، جہاں وہ – احتجاجیوں کے درمیان سڑک پر بیٹھے ہوئے – اس پر تب تک کام کرتے رہے جب کہ یہ تیار نہیں ہو گیا۔




