’’تمام ۳۲ تنظیمیں نوجوانوں سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ کوئی تباہی نہ مچائیں۔ کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کوئی جھگڑا نہیں کرے گا۔ کوئی بھی ہماری اس جدوجہد کو خراب نہیں کرے گا،‘‘ ایک اپیل سنائی دی۔ ’’تمام لوگ دہلی پولیس کے ذریعہ ہمارے لیے طے کیے گئے راستے پر چلیں گے۔ ہم پرامن طریقے سے مارچ کریں گے تاکہ دنیا دیکھے،‘‘ ایک رہنما نے ٹریکٹر پر رکھے لاؤڈ اسپیکر سے کہا۔
یہ ۲۶ جنوری کو صبح پونے ۹ بجے کے آس پاس کی بات ہے، جب ٹریکٹروں کا قافلہ مُنڈکا انڈسٹریل ایریا میٹرو اسٹیشن سے آگے بڑھ رہا تھا، تبھی لاؤڈ اسپیکر سے آواز آنے لگی۔ رضاکار انسانی زنجیر بنانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھے اور تمام لوگوں سے کہنے لگے کہ وہ رک کر رہنماؤں کی اپیل سنیں۔
یہ ریلی مغربی دہلی کے ٹیکری سے صبح ۹ بجے شروع ہوئی تھی۔ بھیڑ کے ذریعہ ’کسان مزدور زندہ آباد‘ کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ ٹریکٹر کے قافلہ کے علاوہ، بہت سے احتجاجی اور رضاکار پیدل مارچ کر رہے تھے – کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھا، اور باقی لوگوں نے اپنی کسان یونین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ ’’ہم پیدل چلنے والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ٹریکٹروں پر چڑھ جائیں کیوں کہ ہمیں لمبی دوری طے کرنی ہے،‘‘ لاؤڈ اسپیکر پر بولنے والے رہنما نے کہا۔ لیکن ان میں سے کئی لوگوں نے پیدل چلنا جاری رکھا۔
یہ قافلہ حسب معمول جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا، مُنڈکا میں رہنے والے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں باہر نکل کر سڑکوں کے کنارے یا بیچ میں (ڈیوائیڈر پر) کھڑے ہوکر انہیں دیکھنے لگے۔ ان میں سے کئی لوگ اپنے فون پر اس غیر معمولی پریڈ کو ریکارڈ کرنے لگے، کچھ اپنے ہاتھ لہرا رہے تھے، دیگر لوگ ریلی میں بج رہے ڈھول پر رقص کر رہے تھے۔
مُنڈکا کے باشندوں میں ۳۲ سالہ وجے رانا بھی تھے۔ وہ اپنے علاقے سے گزرنے والے کسانوں پر گیندا کے پھول برسانے آئے تھے۔ ’’جب سیاسی لیڈروں کا استقبال پھولوں سے کیا جا سکتا ہے، تو کسانوں کا کیوں نہیں؟‘‘ انہوں نے کہا۔ رانا، جو خود ایک کسان ہیں، مُنڈکا گاؤں میں ۱۰ ایکڑ زمین پر گیہوں، دھان اور لوکی اُگاتے ہیں۔ ’’کسان فوجیوں سے کم نہیں ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اگر اس ملک کے فوجی سرحدوں کو چھوڑ دیں، تو کوئی بھی اس ملک پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح، کسانوں کے بغیر ملک کو بھوکا رہنا پڑے گا۔‘‘








