سڑک پر چار دن گزارنے اور ۷۵۰ کلومیٹر کی دوری طے کرنے کے بعد، ٹیمپو اور جیپوں کا کارواں راجستھان کے کوٹہ کے ایک گرودوارہ میں دوپہر کے کھانے کے لیے رکا۔ ۲۴ دسمبر کو دوپہر میں ٹھنڈ ہے، اور مسافر – مہاراشٹر کے کسان اور زرعی مزدور – رات بھر سفر کرنے کے بعد تھک چکے ہیں۔ لیکن جب وہ گرودوارہ کے اجتماعی باورچی خانہ کے کھانے کا انتظار کر رہے ہیں، سویتا گُنجل کے گیت ان کا جوش بڑھا رہے ہیں – کامگار چیا کشتانا نٹولا جگلا، جیون نہ کوئی پوٹلا، کپڑا ناہی نیسایلا (’محنت کشوں کی مزدوری دنیا کو خوبصورت بناتی ہے، لیکن ان کے پاس کھانے کے لیے روٹی یا پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں‘)۔
’’میں یہاں گانے کے لیے آئی ہوں،‘‘ گہرے لال رنگ کی شرٹ اور نیلی جینس پہنے، ۱۶ سالہ بھیل آدیواسی گلوکارہ کہتی ہیں۔ ’’میں کسانوں کو ان کے حقوق کے بارے میں بیدار کرنا چاہتی ہوں۔ میں دنیا کو اپنی حالت کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں،‘‘ ناسک ضلع کے چندواڑ تعلقہ کے چندواڑ گاؤں کی سویتا کہتی ہیں۔ وہ دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی مظاہرہ کر رہے کسانوں کے ساتھ شامل ہونے کے لیے، ناسک سے ۲۱ دسمبر کو کسانوں کے جتھے کے ساتھ روانہ ہوئی تھیں۔ لاکھوں کسان تین زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں، جنہیں سب سے پہلے ۵ جون، ۲۰۲۰ کو آرڈیننس کی شکل میں پاس کیا گیا تھا، پھر ۱۴ ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اوراسی ماہ کی ۲۰ تاریخ کو قانون بنا دیا گیا۔
سویتا اپنے گاؤں میں، ہفتے کے آخری دنوں میں اور چھٹیوں کے دوران زرعی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں اور ایک دن میں ۱۵۰-۲۰۰ روپے کماتی ہیں۔ ’’اگر کام ہوتا ہے، تو میں کھیتوں میں جاتی ہوں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران، انہوں نے اپنا کافی وقت چندواڑ کے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے گزارا۔ ’’لاک ڈاؤن کے دوران کام بہت کم تھا۔ مجھے جتنا کام مل سکتا تھا میں نے کیا، اور جتنا کما سکتی تھی کمایا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ انہوں نے اسی سال (۲۰۲۰ میں) ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی ہے، لیکن وبائی مرض کے سبب کالج کی پڑھائی شروع نہیں کر سکیں۔




