’’تین ٹریکٹر، چھ ٹریکٹر ٹرالی اور ۲ سے ۳ کاریں ۲۴ جنوری کی صبح کو ہمارے گاؤں سے دہلی کے لیے روانہ ہوں گی،‘‘ ہریانہ کے کَندرَولی گاؤں کے چیکو ڈھانڈا نے بتایا تھا۔ ’’ہم ٹریکٹر ریلی میں شامل ہونے کے لیے جا رہے ہیں۔ میں اپنا ڈرائیور خود چلاکر دہلی لے جاؤں گا،‘‘ ۲۸ سالہ کسان نے کہا۔
ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع سنگھو – جہاں پر ہزاروں کسان ستمبر ۲۰۲۰ میں پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں – تک چیکو کا یہ چھٹا دورہ ہے۔ اس کے لیے وہ ہر بار سڑک پر تقریباً چار گھنٹے تک سفر کرتے ہوئے، یمنا نگر ضلع میں واقع کندرولی سے ۱۵۰ کلومیٹر کی دوری طے کرتے ہیں۔ ہر ایک دورہ میں، احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر، انہوں نے سنگھو میں کم از کم تین راتوں تک قیام کیا۔
ان کے ساتھ ہر ایک دورہ میں ان کے چچیرے بھائی، ۲۲ سالہ مونندر سنگھ بھی شامل رہے، جو کروکشیتر یونیورسٹی میں قانون کی پڑھائی کر رہے ہیں۔ ان کی فیملی کے لوگ – جن کا تعلق ہریانہ کی غالب زرعی جاٹ برادری سے ہے – ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے پاس ۱۶ ایکڑ زمین ہے، جس پر وہ سبزیاں، گندم اور دھان کی کھیتی کرتے ہیں۔
’’ہم مقامی اے پی ایم سی منڈیوں میں اپنی فصلیں فروخت کرکے ہر سال فی ایکڑ ۴۰-۵۰ ہزار روپے کماتے ہیں،‘‘ مونندر نے بتایا۔ ’’پیداوار کی لاگت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ ایم ایس پی [کم از کم امدادی قیمت] میں نہیں،‘‘ مونندر نے کہا۔ اس کمائی سے ان کی آٹھ رکنی فیملی کا خرچ چلتا ہے۔
ان دونوں چچا زاد بھائیوں کی فیملی کی طرح ہی، کندرولی گاؤں کے ۱۳۱۴ باشندوں میں سے اکثر کاشتکاری کرتے ہیں۔ جنوری کے وسط میں، ان میں سے چند نے کسانوں کے احتجاج سے متعلق امور کو دیکھنے اور اسے تعاون دینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔ یہ بھارتیہ کسان یونین کی ژونل ذیلی کمیٹیوں (جس کے ساتھ گاؤں کے زیادہ تر کسان جڑے ہوئے ہیں) کے وسیع امکانات کے برعکس، مقامی سطح کے فیصلوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ ’’گاؤں کی کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ جو لوگ احتجاج کے مقامات پر گئے ہوئے ہیں اُن کے کھیتوں کی نگرانی کرنے کی باری کس کی ہے،‘‘ چیکو نے بتایا۔ ’’وہ سنگھو کے لوگوں کو کھانے کی سپلائی کا بھی انتظام کرتے ہیں۔‘‘





