ہریانہ- دہلی سرحد پر واقع سنگھو میں کسانوں اور سکیورٹی دستوں کے درمیان ہوئی جھڑپ میں سردار سنتوکھ سنگھ کو آنسو گیس کے گولے سے زخمی ہوئے ایک مہینہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
لیکن ۷۰ سالہ سنتوکھ سنگھ اب بھی سنگھو میں نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ’’ہم پر امن طریقے سے بیٹھے ہوئے تھے تبھی ہم نے اچانک فائرنگ کی آواز سنی،‘‘ وہ ۲۷ نومبر کے واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں، جس دن ایک آنسو گیس کا گولہ ان کی بائیں آنکھ پر لگا تھا۔
اُس سے ایک دن پہلے، ۱۷ لوگ پنجاب کے ترن تارن ضلع کے ان کے گاؤں، گھرکا سے روانہ ہوئے اور اگلی صبح دہلی کی سرحد پر پہنچ گئے تھے۔ ’’جب ہم پہنچے، تو یہاں تقریباً ۵۰-۶۰ ہزار لوگ جمع تھے۔ میں دوسرے احتجاجیوں کے پاس جاکر بیٹھ گیا، جو تقریر سن رہے تھے،‘‘ سنتوکھ سنگھ یاد کرتے ہیں۔
صبح ۱۱ بجے کے آس پاس ہاتھا پائی اور ہنگامہ شروع ہوگیا اور کچھ ہی دیر میں پانی کی بوچھار اور آنسو گیس کے گولے برسنے لگے۔ ’’میرے سامنے بیٹھے نوجوان اٹھے، میرے اوپر سے کودتے ہوئے دوسری طرف بھاگ گئے۔ میں کھڑا ہوا اور خود کو سنبھالنے لگا،‘‘ سنتوکھ سنگھ کہتے ہیں۔ ’’میں سکیورٹی دستوں پر چیخا: ’تم ہمیں غصہ کیوں دلا رہے ہو؟ ہم یہاں پر امن طریقے سے بیٹھے تھے‘۔ انہوں نے غصے سے جواب دیا: ’ہمیں مجمع کو بھگانے کے لیے ایسا کرنا ہی ہوگا‘۔ تبھی میرے سامنے کا بچہ اپنی جانب آ رہے گولے کو دیکھ کر نیچے جھک گیا، جس سے وہ گولہ میرے اوپر آکر گرا۔ لیکن میں بالکل نہیں ہلا۔‘‘
سردار سنتوکھ سنگھ، جنہوں نے پنجاب کی چولا صاحب تحصیل کے اپنے گاؤں میں دھان اور گیہوں کی کھیتی کرتے ہوئے زندگی گزاری ہے، آگے کہتے ہیں، ’’مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ میں زخمی ہو چکا ہوں، جب تک کہ میرے ارد گرد ایک مجمع اکٹھا نہیں ہو گیا۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرا کافی خون بہہ رہا ہے اور مجھے اسپتال لے جانے کی پیشکش کی۔ لیکن میں نے انکار کر دیا اور ان احتجاجیوں کو واپس بلایا جو بھاگ گئے تھے۔ میں نے کہا، بھاگو مت۔ آگے بڑھتے رہو۔ ہم واپس جانے کے لیے یہاں نہیں آئے ہیں۔ میں سرکاری دستوں سے پوچھنا چاہتا تھا کہ انہوں نے ہم پر حملہ کیوں کیا۔ میں نے انہیں للکارا کہ ہمت ہے تو نیچے آکر مجھ سے لڑو۔ ان کی گولیاں ہمیں ڈرا نہیں پائیں گی۔‘‘
آنسو گیس کا گولہ لگنے کے بعد، سنتوکھ سنگھ کی بائیں آنکھ میں آٹھ ٹانکے لگانے پڑے اور اس میں خون جم گیا۔ ’’میرے گاؤں کے نوجوان مجھے احتجاج کے مقام کے قریب واقع ایک اسپتال میں لے گئے۔ لیکن اس اسپتال نے ہمیں اندر جانے سے منع کر دیا اور اپنا دروازہ ہمارے لیے بند کر دیا۔ پوری افراتفری تھی۔ خوش قسمتی سے، وہاں پر ایک ایمبولینس کھڑی تھی جو پنجاب سے آئی تھی۔ وہ ہماری طرف دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے ٹانکے لگانے اور دوائیں دینے میں مدد کی۔ وہ آنسو گیس سے زخمی دیگر لوگوں کا بھی علاج کر رہے تھے۔‘‘



