’’اس سرکار کو کسانوں کی پرواہ نہیں ہے۔ یہ بڑی کمپنیوں کی طرفدار ہے۔ انہیں اے پی ایم سی بھی دیا جا رہا ہے۔ وہ کسانوں کی نہیں، ان کی مدد کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ شمالی کرناٹک کے بیلگاوی ضلع کے بیلگاوی تعلقہ کی زرعی مزدور، شانتا کامبلے نے کہا۔
شہر کے وسطی حصہ میں میجسٹک علاقہ میں، بنگلورو سٹی ریلوے اسٹیشن کے پاس سڑک کے ڈیوائیڈر پر بیٹھ کر وہ اپنے ارد گرد گونج رہی آواز – ’کیندر سرکار دھِکّار‘ (ہم مرکزی حکومت کی مذمت کرتے ہیں) – سن رہی تھیں۔
پچاس سالہ شانتا، ۲۶ جنوری کی صبح بس سے کسانوں کی یوم جمہوریہ ریلی میں شریک ہونے کے لیے بنگلورو پہنچی تھیں۔ اُس صبح، پورے کرناٹک کے کسان اور زرعی مزدور ٹرینوں اور بسوں سے میجسٹک پہنچ رہے تھے تاکہ وہاں سے دو کلومیٹر دور، فریڈم پارک جاکر دہلی میں تین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کی حمایت کرنے کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں شامل ہو سکیں۔
اُدھر گھر پر، شانتا آلو، دال اور مونگ پھلی جیسی فصلوں کی بوائی، اور کھیتوں سے گھاس پھوس نکالنے کا کام کرکے ایک دن میں ۲۸۰ روپے کماتی ہیں۔ زرعی کام دستیاب نہ ہونے پر وہ منریگا کے کام کرتی ہیں۔ ان کے ۲۸ اور ۲۵ سال کے دو بیٹے ہیں، جو منریگا کے تحت دستیاب تعمیراتی کام کرتے ہیں۔
’’[کووڈ- ۱۹] لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے پاس مناسب کھانا یا پانی نہیں تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’سرکار کو ہماری کوئی فکر نہیں ہے۔‘‘
ریلوے اسٹیشن کے پارکنگ والے حصہ میں کسانوں کا ایک گروپ نعرے لگا رہا تھا، ’’ہمیں چاہیے اے پی ایم سی۔ نئے قانون واپس لو۔‘‘








