’’آنے والے دنوں میں کوئی ایم ایس پی نہیں ہوگی، یہ لوگ آہستہ آہستہ اے پی ایم سی کو بند کر دیں گے اور بجلی کو پرائیویٹ ہاتھوں میں سونپ دیں گے۔ اسی لیے ہم لوگ فکرمند ہیں،‘‘ کرناٹک کے شِوموگّا ضلع کے ایک کسان، ڈی ملّیکارجُنپّا نے کہا۔
یوم جمہوریہ کی ٹریکٹر پریڈ میں شرکت کرنے کے لیے ۶۱ سالہ ملّیکارجُنَپّا ۲۵ جنوری کو ہلوگِن کوپّا گاؤں سے بنگلورو آئے تھے۔ وہ شکارپور تعلقہ کے اپنے گاؤں سے ۳۵۰ کلومیٹر کی مسافت طے کرکے وہاں پہنچے تھے۔ ’’بڑی کمپنیوں کی بات سننے کی بجائے، انہیں [مرکزی حکومت کو] اے پی ایم سی میں اصلاح کرنی چاہیے تاکہ ہمیں صحیح قیمت ملے،‘‘ انہوں نے کہا۔
نئے زرعی قوانین نے ان کی تشویشیں بڑھا دی ہیں – یہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور زرعی پیداوار کی ماکیٹنگ کمیٹیوں (اے پی ایم سی) کو کمزور کر دیں گے جو کسانوں کی غذائی اجناس کی خرید کو یقینی بناتی تھیں۔
ملیکارجنپا اپنی ۱۲ ایکڑ زمین میں سے ۳-۴ ایکڑ پر دھان کی کھیتی کرتے ہیں۔ باقی زمین پر وہ سُپاری اُگاتے ہیں۔ ’’پچھلے سال سپاری کی پیداوار خراب رہی، اور مجھے دھان کی فصل بھی زیادہ نہیں مل پائی،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’مجھے بینک سے لیا گیا ۱۲ لاکھ روپے کا قرض واپس کرنا ہے۔ انہوں نے [ریاستی حکومت] کہا تھا کہ وہ قرض معاف کر دیں گے۔ لیکن بینک اب بھی مجھے لگاتار نوٹس بھیج رہے ہیں اور جرمانے کی وارننگ دے رہے ہیں۔ میں ان تمام کی وجہ سے بھی فکرمند ہوں،‘‘ انہوں نے غصے سے کہا۔
ملیکارجنپا جیسے کسان، کرناٹک کے دور دراز کے ضلعوں سے، پریڈ سے ایک دن قبل بنگلورو پہنچے تھے۔ لیکن مانڈیا، رام نگر، تمکور اور دیگر قریبی اضلاع کے کسان ۲۶ جنوری کی صبح ۹ بجے ٹریکٹروں، کاروں اور بسوں سے بنگلورو کے باہری علاقوں میں جمع ہونے لگے تھے۔ انہوں نے دوپہر میں وسط بنگلورو کے گاندھی نگر علاقہ کے فریڈم پارک پہنچ کر دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کی حمایت میں احتجاج میں شامل ہونا تھا۔ قومی راجدھانی میں یوم جمہوریہ کی اس پریڈ کا انعقاد دہلی کی سرحدوں پر ۲۶ نومبر سے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے کسانوں کے ذریعہ کیا گیا تھا۔







