مدورئی میں کومبو کی دھیمی ہوتی آواز
کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے



کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے
سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں
مہاراشٹر کے کوڈولی گاؤں کے استاد دستکار اور موسیقی ساز دِنکر آئیولے ڈیڑھ لاکھ گھنٹے تک بانسری بنانے کا کام کر چکے ہیں – لیکن لاک ڈاؤن اور دیگر چنوتیوں کے سبب یہ کام اور موسیقی پھیکنی پڑنے لگی ہے
بانسری بنانے والے، چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے گونڈ آدیواسی، منی رام منڈاوی اُس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب جنگل جانوروں، درختوں اور اُس بانس سے بھرے ہوتے تھے جس سے وہ ایک خاص قسم کی ’گھمانے والی بانسری‘ بناتے ہیں
جنوری کے آخر میں ممبئی کے آزاد میدان میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں، مہاراشٹر کے ڈہانو تعلقہ کی آدیواسی برادریوں کے دھُمسی اور تارپا بجانے والوں نے رقص اور گانے کے ذریعہ نئے زرعی قوانین کی مخالفت کی
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن میں سامان فروخت نہیں ہونے، اور اپنے ڈھول کے لیے کچا چمڑا خریدنے میں مشکلات کے سبب، کیرالہ کے پیروویمبا گاؤں میں آلات موسیقی بنانے والے کڑچی کولّن کاریگروں کو مستقل آمدنی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے
گوالا برادری سے تعلق رکھنے والے پنچ رام، بابو لال اور سہدیو یاد وسطی چھتیس گڑھ کے بالود ضلع میں اب بھی بانس باجا گیت بجاتے ہیں، لیکن یہ روایتی آلہ موسیقی اور گیت اب مقبول نہیں رہے
مہاراشٹر کے مختلف ضلعوں سے تقریباً ۱۰۰۰ کسان، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی ہیں – گاڑی، ٹیمپو، جیپ اور کاروں کے ذریعہ دہلی کے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت اور پر عزم قافلہ ہے
آدیواسی برادریوں میں مقبول، اور ان کے ذریعہ بنائے جانے والے موسیقی کے ساز اب غائب ہو رہے ہیں۔ اور مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں ایسا ہونے کی وجہ ثقافتی نہیں، بلکہ کچھ اور ہے
دیہی بنگال کے روایتی ڈھول بجانے والوں کو اس موسم میں کولکاتا میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
ہارمونیم کی مرمت کرنے والے جبل پور، مدھیہ پردیش کے کئی کاریگر لاک ڈاؤن کے سبب دو مہینے سے مہاراشٹر کے ریناپور میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاری کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتایا
چمبا ضلع کے ایک کسان و موسیقار، پریم لال کو حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنیں
اگرچہ دیب گروؤں کے ہنر کی روایت ختم ہو رہی ہے اور اسے ریاستی سرپرستی کی ضرورت ہے، لیکن وہ اوڈیشہ میں دھان سے مورتیاں اور دوسری چیزیں بنانے کے ساتھ ساتھ لکشمی پُران گاتے ہوئے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں
جیسوداس اور ان کے بیٹے ایڈوِن ماہر کاریگر ہیں، جنہیں چنئی کی کرناٹک موسیقی دنیا اور دیگر جگہوں پر مردنگم بنانے کے لیے جانا جاتا ہے، حالانکہ انھیں آج بھی کبھی کبھار ذات پر مبنی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کیرالہ کے پرپّا گاؤں میں تہواروں اور دیگر پروگراموں کے دوران ماویلن آدیواسی برادری کے لوگ ’گھاس‘ پر ڈھول بجاتے ہیں، اور سال کے باقی دن یومیہ مزدوری کرتے ہیں
ناسک میں ۲۰-۲۱ فروری کو ہوئی کسانوں کی ریلی میں، کئی لوگ اپنے روایتی موسیقی آلات کے ساتھ آئے تھے، جس سے احتجاجی ریلی میں ساز اور گیت بھی شامل ہو گیا
مغربی اوڈیشہ میں دلت برادریوں کے موسیقار ہر سال رائے پور کے ایک چوراہے پر اکٹھا ہوتے ہیں، اور چھتیس گڑھ کے او بی سی رقص گروہوں کے ذریعہ کام پر رکھے جانے کا انتظار کرتے ہیں
راجستھان کے زرعی مزدور ہر سال اپریل-مئی کے مہینوں میں ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں راون ہاتھا بجانے جاتے ہیں، جو کہ ایک مشہور صدیوں پرانا مقامی آلہ موسیقی ہے، اور اس سے موسمی آمدنی کماتے ہیں
اوڈیشہ کی نیامگیری پہاڑیوں میں رہنے والے آدیواسیوں نے کانکنی کے خلاف اپنی لڑائی تو ۲۰۱۳ میں ہی جیت لی تھی، لیکن اُن کی آبائی زمین کو اب بھی خطرہ لاحق ہے۔ وہاں کے ایک شاعر اور سماجی کارکن، راج کشور سُنانی نے حالیہ دنوں منعقد ہونے والے نیامگیری میلہ میں انہی حالات پر مبنی ایک گیت سنایا
بنگلورو کے نواح میں نوجوان عورتیں کنّڑ ڈھول اور رقص کی اس شکل میں مہارت حاصل کر چکی ہیں جسے کبھی طاقتور مردوں کا ہنر تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں پیش کیے گئے ویڈیو میں، خواتین کی اس جماعت کو پوری توانائی اور لَے کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
گاؤں والوں کے طعنوں، شوہر کی گالیوں، اور ذات سے متعلق صدیوں پرانے خیالات سے لڑتی، بہار کے ڈھیبرا گاؤں کی دس دلت عورتوں نے ایک بینڈ بنایا ہے – اور اب ان کی تال پر بہت سے لوگ ناچنے اور جھومنے لگے ہیں
موسیقی کا باؤل کلچر، زندگی کے اتحاد پسندانہ فلسفہ کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پر دکھائی جا رہی فلم میں، بیربھوم ضلع کے بولپور سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اور ٹیچر، باسودیب داس باؤل، زندگی کے اس طریقہ اور آرٹ کی شکل کے بارے میں بتا رہے ہیں
اتراکھنڈ کی چھولیا منڈلی اسکاٹش بیگ پائپ کو دیہی ہندوستانی موسیقی میں ڈھالتی ہے
آٹھ کلوگرام مٹی، جو مانامدروئی، تمل ناڈو میں خوبصورت موسیقی پیدا کرتی ہے
اس روایتی ڈھول کو منی پور کی میئی تیئی برادری کی ثقافت، اور رقص و موسیقی میں مرکزی مقام حاصل ہے
یہ دستکار کئی نسلوں سے ہوا سے بجنے والا ساز بناتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن نئی نسل چونکہ زیادہ پیسے والے کاموں کی طرف بھاگ رہی ہے، اس لیے یہ فن موت کے دہانے پہنچ چکا ہے۔
ڈانگ کی آدیواسی برادریوں کے اس روایتی ساز کو سنیں
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/ہندوستان-کے-مختلف-آلاتِ-موسیقی-کی-دھُن