’’یہ ڈھول نہیں ہے،‘‘ ایک ڈھول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سویتا داس کہتی ہیں۔
اپنے سامنے موجود مواقع میں خود کو محدود کرنے سے انکار کرتے ہوئے، بہار کے پٹنہ ضلع کے ڈھیبرا گاؤں کی عورتوں کے اس گروپ نے غیر روایتی ذریعہ معاش اپنایا ہے۔ قابل کاشت زمین چونکہ سکڑتی جا رہی ہے اور کم مزدوری پر کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کام ختم ہوتا جا رہا ہے، اس لیے انھوں نے اپنے ہاتھ میں چھڑیاں پکڑ لی ہیں۔ سولہ عورتوں نے اس راستے پر چلنا شروع کیا، لیکن فیملی کے دباؤ اور کبھی نہ ختم ہونے والی تنقید نے ان میں سے چھ کو اس راستہ کو چھوڑنے اور گروپ سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ وہ 10 عورتیں جو ثابت قدم رہیں، ان سب کا عرفی نام داس ہے، انھوں نے سال 2012 میں ’سرگم مہیلا بینڈ‘ کے نام سے ریاست کا پہلا صرف خواتین پر مبنی بینڈ بنایا۔







