اگر پولیس نے بے دردی سے لاٹھی نہیں چلائی ہوتی، تو اتر پردیش کے باغپت ضلع میں احتجاج کر رہے کسانوں نے ۲۷ جنوری کو اپنا احتجاجی مقام نہیں چھوڑا ہوتا۔ ’’احتجاج ۴۰ دنوں سے چل رہا تھا،‘‘ ۵۲ سالہ برج پال سنگھ کہتے ہیں، جو بڑوت شہر کے ایک گنّا کسان ہیں، جہاں دھرنا منعقد کیا گیا تھا۔
’’راستہ روکو آندولن بھی نہیں تھا۔ ہم پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے، اپنے جمہوری حق کا استعمال کر رہے تھے۔ ۲۷ جنوری کی رات کو، پولیس نے اچانک ہمارے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی۔ انہوں نے ہمارے ٹینٹ پھاڑ دیے، اور ہمارے برتن اور کپڑے اٹھا لے گئے۔ انہوں نے بزرگوں اور بچوں کا بھی خیال نہیں کیا،‘‘ برج پال کہتے ہیں، جن کے پاس بڑوت میں پانچ ایکڑ زمین ہے۔
جنوری کی اُس رات تک، بڑوت ضلع کے تقریباً ۲۰۰ کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف باغپت – سہارنپور شاہراہ پر احتجاج کر رہے تھے۔ وہ ملک بھر کے اُن لاکھوں کسانوں میں شامل ہیں، جو ستمبر ۲۰۲۰ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف پہلے دن سے ہی احتجاج کر رہے ہیں۔
باغپت اور مغربی اتر پردیش (یو پی) کے دیگر حصوں کے کسان بھی اُن کسانوں – بنیادی طور پر پنجاب اور ہریانہ سے – کو اپنی حمایت دے رہے ہیں، جو اِن قوانین کو ردّ کرنے کی مانگ کو لیکر ۲۶ نومبر، ۲۰۲۰ سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
’’ہمیں دھمکی ملی، فون کال آئے،‘‘ برج پال کہتے ہیں، جو باغپت علاقے کے تومر گوتر (قبیلہ) کے دیش کھاپ کے مقامی لیڈر بھی ہیں۔ ’’[ضلع] انتظامیہ نے ہمارے کھیتوں کو پانی سے بھرنے کی دھمکی دی۔ جب اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، تو پولیس نے رات میں جب ہم سو رہے تھے، ہمارے اوپر لاٹھی چارج کر دیا۔ یہ سب اچانک ہوا۔‘‘




