جب مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے ذریعہ سہریا آدیواسی، گُٹّی سمنیا کو ’چیتا متر‘ کے طور پر نامزد کیا گیا، تب انہیں ’’چیتوں کے نظر آنے پر اس کی اطلاع فاریسٹ رینجر کو دینے کے لیے کہا گیا تھا۔‘‘
حالانکہ، اس کام کے عوض پیسے نہیں ملنے تھے، لیکن یہ ایک اہم کام محسوس ہوتا تھا۔ آخرکار، یہ افریقی چیتے مال بردار جہازوں، فوج کے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کئی ممالک اور سمندروں کو پار کرکے تقریباً ۸۰۰۰ کلومیٹر دور سے یہاں لائے گئے تھے۔ حکومت ہند نے ان کے سفر اور ملک میں ان کی باز آبادکاری پر اچھی خاصی غیر ملکی کرنسی خرچ کی تھی۔ یہ رقم کتنی ہے، اس کا انکشاف نہیں کیا گیا۔
’چیتا متر‘ کا کام انہیں غیر قانونی شکاریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ، ناراض دیہاتیوں سے بھی محفوظ رکھنا تھا، جن کی بستیوں میں وہ جانے انجانے کبھی بھی داخل ہو سکتے تھے۔ ملک کی خدمت کے اسی جذبے سے تقریباً ۵۰۰-۴۰۰ کی تعداد میں ان چیتا متروں کا اندراج کیا گیا۔ وہ جنگلات میں رہنے والے مقامی باشندے، کسان اور دہاڑی مزدور ہی تھے اور کونو – پالپور نیشنل پارک (کے این پی) کے کنارے آباد چھوٹی بستیوں اور گاؤوں میں پھیلے ہوئے تھے۔
لیکن جب سے یہ چیتے آئے ہیں، تب سے انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت سلاخوں کے گھیرے میں رہتے ہوئے گزارا ہے۔ کونو کے جنگل میں چہار دیواری مزید اونچی کر دی گئی، تاکہ چیتے جنگل سے باہر نہ نکلنے پائیں اور باہر کے لوگ جنگل میں داخل نہ ہونے پائیں۔ ’’ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سیسئی پورہ اور باگچا میں نئے گیٹ بنا دیے گئے ہیں،‘‘ شرینواس آدیواسی کہتے ہیں۔ انہیں بھی ایک چیتا متر بنایا گیا ہے۔




















