ہمارے کام کاج کا مرکزی نقطہ ہمارے رضاکار ہیں جو ہر رپورٹ کے لیے ’فوکس اور فیکٹائڈز‘ تیار کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کالج کے طلباء، ملازمت پیشہ اور ریٹائرڈ پروفیشنل بطور رضاکار کام کرتے ہیں، جو مشکل اور بڑے موضوعات کو آسان زبان میں منتقل کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنا وقت اور صلاحیت فراہم کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے آرکائیو تک لوگ آسانی سے پہنچیں اور وسیع معلومات سے لیس ہوں۔
فی الحال پاری لائبریری کے پاس تقریباً ۴۵۰ رضاکار ہیں، جنہوں نے شروعات سے ہی ہمارے ساتھ کام کیا ہے۔
سال ۲۰۲۵ ختم ہو رہا ہے اور ہمیں اپنے کچھ باقاعدہ رضاکاروں کے تاثرات کو پیش کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے جو اپنے تجربات اور اہم چیزوں کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
یڈینی ستیہ مورتی
آئی آئی ٹی بامبے میں انوائرمنٹل سائنس اور انجینئرنگ میں ایم ٹیک کی تعلیم
وہ ہر رپورٹ جس کے لیے میں نے ’فوکس اور فیکٹائڈز‘ بنائے، انہوں نے مجھے نیا نظریہ دیا۔ کچھ رپورٹ، جیسے Tainted Carpets: Slavery and child labour in India’s hand-made carpet sector یا Climate India 2024: An assessment of extreme weather events نے مجھے پریشان کیا اور انہیں پڑھنے میں مجھے کئی دن لگے۔ مگر میں جو پڑھ رہی ہوں، اسے دیکھوں تو ان رپورٹوں پر کام کرنے سے مجھے متعلقہ موضوعات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے مواقع حاصل ہوئے۔
خواہ وہ ایک صفحہ کا پوسٹر ہو یا ۵۰۰ صفحات کی شماریاتی رپورٹ، پاری لائبریری کے ’فوکس اور فیکٹائڈز‘ کا ڈھانچہ آپ کو موضوعات کی جڑ تک لے جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ان میں سے کئی رپورٹ ابھی تک مین اسٹریم کے پاس دستیاب نہیں ہے۔
ابوذر شیخ
بیش از ۳۰ سال کے تجربات پر مبنی ترسیل اور مالیاتی خدمات کے ماہر
میرے پاس خالی وقت تھا اور میں کچھ اچھا کرنا چاہتا تھا۔ پاری لائبریری کے ساتھ کام کرنا ایک شاندار موقع تھا۔ پاری جو کام کرتا ہے وہ میرے لیے بالکل صحیح تھا، کیوں کہ یہ ہمیشہ سے میری پسندیدہ چیزوں میں سے ایک رہا ہے۔
ایک قاری کے طور پر میں لائبریری میں موضوعات کی بہتر ترتیب اور تلاش کرنے کی سہولت دیکھنا چاہوں گا۔
جیری جوز
ماحولیاتی سائنس داں، کوٹّایم، کیرالہ
پاری سے میرا تعارف ویب سائٹ لانچ ہوتے وقت پی سائی ناتھ کے ایک لکچر سے ہوا تھا۔ دیہی ہندوستان کا آرکائیو بنانے کی یہ کوشش جو ’’ایک براعظم کے اندر آباد برصغیر‘‘ جیسا ہے، حوصلہ افزا اور اپنی نوعیت کی انوکھی کوشش تھی۔ اس کے لیے بطور رضاکار کام کرنا پاری کی لگاتار بڑی ہوتی لائبریری میں دور سے مدد کرنے کا میرا طریقہ ہے۔
قابل تعریف بات یہ ہے کہ لائبریری میں آسانی سے سمجھ آنے والے ’فوکس اور فیکٹائڈز‘ والی رپورٹس موجود ہیں۔ مجھے اس کا بڑھا ہوا دائرہ پاری کی صحافت کے لیے بہت فائدہ مند لگتا ہے۔ مجھے اپنی مہارت کے شعبہ میں اور اس سے باہر کی رپورٹس پر کام کرنے میں مزہ آیا، جہاں تحقیق کا کام خود میں سیکھنے کا ایک تجربہ تھا۔