اوما بائی کہتی ہیں کہ جب وہ اپنے گھر واپس جاتی ہیں تو ان کے بدن میں درد اور سر میں چکّر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ’’یہاں لوٹنے کے بعد ہی مجھے آرام ملتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’بابا نہیں چاہتے کہ میں یہاں سے جاؤں۔‘‘ سیلانی بابا کی شہرت ’’بد روحوں سے آزادی‘‘ دلانے والے فقیر کے طور پر تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ۱۹۰۸ میں ان کی یاد میں یہ درگاہ بنائی گئی۔ حالانکہ اس درگاہ کا انتظام و انصرام کرنے والا ٹرسٹ صرف چندہ پر چلتا ہے۔ لیکن اس کے آس پاس کئی ڈھونگی بابا سرگرم ہیں، جو غریب لوگوں کی لاچاری اور حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی ہے ضروری
بھاؤ صاحب نے مندر کی تعمیر کے لیے ۲۵ء۱ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے، اور وہ ۱۵۰۰ روپے ماہانہ کرائے ادا کر کے ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ’’مندر کی تعمیر میں حصہ داری ایک اعزاز ہے جو ہمیں اگلی تین نسلوں تک نہیں ملے گا،‘‘ بھاؤ صاحب کہتے ہیں۔ ’’جب ڈیڑھ سال میں ہماری باری آئے گی تو ہم نقد رقم بابا کے قدموں میں رکھ دیں گے۔‘‘
عقیدہ، چندہ اور قرض میں ڈوبے کسان
گزر بسر کی جدوجہد کے باوجود دہیفلے نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں کہ وہ دعوت کا اہتمام نہ کریں۔ ’’ورنہ دیوی مجھے آشیرواد نہ دیتی اور میری مرادیں پوری نہیں کرتیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
موہٹے میں ہے توہم پرستی کا بول بالا
(تمام اقتباسات پارتھ ایم این کی توہم پرستی پر جاری سیریز سے لیے گئے ہیں۔)


