یہ اسٹوری پارتھ ایم این کی اُس سیریز کا حصہ ہے، جسے پلٹزر سنٹر کا تعاون حاصل ہے۔
مانسون سے پہلے ۵۳ سالہ دیو راؤ ناگرے نے جو وعدہ کیا تھا اب وہ انہیں پریشان کرنے لگا ہے۔
انہوں نے ستمبر کا مہینہ گھٹنوں تک گہرے پانی میں کھڑے ہوکر اپنے کھیت کو تباہ کن بارش سے بچانے کی کوشش میں گزارا تھا۔ ان کا ۸ ایکڑ کا کھیت چکلامبا گاؤں میں ایک پہاڑی ڈھلان پر واقع ہے، جس کی وجہ سے سیلاب کے دوران نقصان کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
’’پانی براہ راست میرے کھیت سے ہوکر گزرتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’پانی کی نکاسی کا راستہ بنانے کے لیے میں نے روزانہ کئی گھنٹوں تک کام کیا۔‘‘
لیکن ان کی کمر توڑ محنت بیکار گئی، اور منہ زور بادلوں کی مار سے وہ ہار گئے۔ ان کی کپاس، ارہر اور گنے کی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے انہیں ۳ لاکھ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ پہاڑیوں سے نیچے اترنے والا پانی کا تیز بہاؤ اپنے ساتھ ان کے کھیت کی مٹی کی اوپری تہہ کو بھی بہا لے گیا، جس سے ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی۔
نقصانات کی تلافی کے خیال سے ناگرے اتنے پریشان نہیں ہیں، جتنے مہاراشٹر کے اہم تیرتھ گاہوں (زیارت گاہوں) میں سے ایک پر مندر کی تعمیر کے لیے ۷ء۱ لاکھ روپے عطیہ دینے کے وعدہ کو پورا نہ کرنے کے اندیشہ کو لے کر پریشان ہیں۔















