یہ اسٹوری پارتھ ایم این کی اُس سیریز کا حصہ ہے جسے پُلٹزر سنٹر کا تعاون حاصل ہے۔
تقریباً ۷۵ سال کی اسماء خان اپنی بیٹی کے علاج کی تلاش میں ۱۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کر کے یہاں آئی تھیں۔ ان کی بیٹی شدید ذہنی مسائل سے دوچار ہے۔ اب ۱۲ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ماں بیٹی دونوں اب بھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹی ہیں۔
مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ خطہ کے سمبھاجی نگر (جو پہلے اورنگ آباد تھا) ضلع کے ایک مزدور خاندان میں پیدا ہوئیں فاطمہ کا بچپن کافی مشکلوں بھرا رہا۔ انہیں اکثر چکّر آنے اور بیہوش ہونے کی شکایت رہتی تھی، جو وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور بعد میں انہیں پر تشدد دورے بھی پڑنے لگے۔
’’ہم سالوں تک اسے لے کر ایک ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر تک چکّر لگاتے رہے،‘‘ اسماء بتاتی ہیں۔ ’’علاج کے لیے ہم نے اپنے مویشی بھی فروخت کر دیے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی حالت لگاتار بگڑتی گئی اور ہم دیکھ رہے تھے کہ دنوں دن وہ حقیقت سے دور ہوتی جا رہی تھی۔‘‘
ایک دن فاطمہ نے سب کو پہچاننا بند کر دیا اور گہرے ڈپریشن میں چلی گئی۔ تب وہ ۳۰ سال کی عمر پار کر چکی تھیں، اور ماں باپ کے پاس اب کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ روزی روٹی کی جدوجہد کے درمیان ان کی ذہنی حالت نے انہیں پوری طرح الجھا دیا تھا۔
’’وہ اپنے کپڑے پھاڑ دیتی تھی اور ہمیں سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اسے کیسے قابو میں رکھیں،‘‘ اسماء یاد کرتی ہیں۔ تبھی ایک پڑوسی نے انہیں ایک الگ قسم کی صلاح دی۔
ان کے گاؤں سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور ایک اور گاؤں ہے، جہاں تقریباً ۱۱۷ سال پرانی ایک درگاہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۹ویں صدی کے آخر میں حضرت حاجی عبدالرحمٰن شاہ عرف سیلانی شاہ بابا یہاں پمپل گاؤں سرئی میں آئے تھے۔ ودربھ علاقہ میں بلڈھانہ شہر سے یہ گاؤں تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ سیلانی بابا کی شہرت ’’بد روحوں سے آزادی‘‘ دلانے والے فقیر کے طور پر تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ۱۹۰۸ میں ان کی یاد میں یہ درگاہ بنائی گئی۔
تب سے ہر سال مارچ میں یہاں عرس ہوتا ہے، جس میں لاکھوں عقیدت مند شامل ہوتے ہیں۔









