قرض میں ڈوبے ہونے کے باوجود کیرو دہیفلے نے مئی ۲۰۲۵ کے پہلے ہفتہ میں اپنے پورے گاؤں موہٹے کے لیے دعوت کا اہتمام کیا۔ تقریباً ۳۰۰۰ لوگ ان کے ٹین کی چھت والے کچے مکان کے سامنے ایک ایکڑ کھیت میں جمع ہوئے اور تہوار کے موقع پر تیار کی گئی شاندار سبزی خور ضیافت سے لطف اندوز ہوئے۔
خرچ: ڈیڑھ لاکھ روپے۔
یہ اتنی بڑی رقم ہے جو ۷۰ سالہ دہیفلے کے پاس موجود نہیں تھی۔ انہوں نے یہ پیسہ ایک نجی ساہوکار سے تین فیصد ماہانہ (یعنی ۳۶ فیصد سالانہ) سود پر قرض لیا۔ خراب موسمِ سرما کی فصل کے بعد یہ بوجھ ان کے گلے کی پھانس بن سکتا ہے۔ انہوں نے پیاز کی کاشت کی تھی لیکن قحط کے باعث فصل سوکھ گئی اور انہیں ۳۵ ہزار روپے کا نقصان ہوا۔
گزر بسر کی جدوجہد کے باوجود دہیفلے نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں کہ وہ دعوت کا اہتمام نہ کریں۔ ’’ورنہ دیوی مجھے آشیرواد نہ دیتی اور میری مرادیں پوری نہ کرتیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
موہٹے گاؤں اہِلّیہ نگر (سابقہ احمد نگر) ضلع کے پاتھرڈی تعلقہ میں آتا ہے۔ دہیفلے کا گھر مشہور موہٹا دیوی مندر سے اترتی ہوئی ایک گھماؤدار سڑک پر واقع ہے۔ یہ عظیم الشان چار منزلہ عمارت ہے، جس کی ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۳ کے درمیان قریب ۲۰ کروڑ روپے کی لاگت سے تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ یہ مندر مہاراشٹر کی سب سے مقبول ہندو زیارت گاہوں میں سے ایک ہے، جہاں ہر سال تقریباً ۲۵ لاکھ عقیدت مند آتے ہیں۔













