منوج چودھری کی زندگی کے درہم برہم ہونے میں چند سیکنڈ لگے تھے۔
’’میری ماں اور میری بیوی میری دنیا تھیں، اب میرے پاس جو کچھ ہے وہ صرف میرے دو بچے ہیں،‘‘ دیہی چندر پور میں اپنے گھر سے بات کرتے ہوئے ۳۵ سالہ منوج کہتے ہیں۔
’’میں اور میرے بچے ابھی سوئے ہوئے تھے، جب میری ماں اور بیوی جنگلوں کی طرف روانہ ہوئے تھے۔‘‘ کچھ ہی گھنٹوں بعد ۱۰ مئی ۲۰۲۵ کو، ۶۰ سالہ کانتا بُدھاجی چودھری اور ۳۰ سالہ شوبھانگی اپنے گاؤں سے دو کلومیٹر دور جھاڑیدار جنگل میں شیر کے حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی پڑوسن ساریکا شالک شینڈے، جن کی عمر تقریباً۵۰ سال تھی، شیر کا تیسرا شکار تھیں۔
تینوں خواتین گاؤں کے دیگر لوگوں کے ساتھ تیندو کے پتے جمع کرنے جنگل گئی تھیں۔
مہاراشٹر کے چندر پور ضلع میں واقع ایک ہزار سے زیادہ افراد پر مشتمل گاؤں مینڈھا (مال) میں ماتم چھا گیا۔ گاؤں والے زیادہ تر منوج جیسے چھوٹے کسان یا بے زمین مزدور ہیں، جو موسم کے لحاظ سے ریاست اور ملک کے شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ ہر سال مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں میں وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کے لیے جنگل سے تیندو کے پتے اور مہوا کے پھول اکٹھا کرتے ہیں۔
سندیواہی تحصیل کے گاؤں کو سرکاری ریکارڈ میں مینڈھا مال گُجاری کے نام سے درج کیا گیا ہے، لیکن گاؤں کے باہر لگے بورڈ پر گاؤں کا نام ’مینڈھا (مال)‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ گاؤں تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو (ٹی اے ٹی آر) کے قریب واقع ہے۔ ریزرو کا بنیادی یا محفوظ علاقہ ۶۲۵ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اور اس کا ایک بفر علاقہ ہے، جوانسانی آبادی والے ریزرو کے ارد گرد تقریباً ۱۱۰۲ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
محکمہ جنگلات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، چندر پور ضلع میں ۲۲۳ شیر ہیں، جن میں سے تقریباً ۱۲۰-۱۲۵ ٹی اے ٹی آر کی حدود میں ہیں۔ کئی گاؤں والوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ پہلا موقع تھا جب مینڈھا (مال) میں شیر نے کسی انسان کو اپنا شکار بنایا ہو۔
گاؤں والوں نے پولیس اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تینوں خواتین کو ایک شیرنی اور اس کے تین بچوں نے مارا تھا۔
ان ہلاکتوں نے ہنگامہ برپا کر دیا، ایک مختصر احتجاج ہوا، اور ضلع کے مقامی رکن قانون ساز اور دیگر سیاست دانوں کو سوگوار خاندان کے اراکین اور گاؤں والوں کو تسلی دینے کے لیے یہاں آنا پڑا۔
























