’’یہ رہا اسکول،‘‘ اتُل بھوسلے اپنی شہادت کی انگلی سے مہاراشٹر کے گُنڈے گاؤں سے باہر خالی میدانوں کے درمیان کھڑے دو کمروں کے کنکریٹ کے چھوٹے سے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ گاؤں کی کیچڑ بھری سڑک سے گزرتے ہوئے یہ اسکول آپ کی نگاہوں سے چھپ نہیں سکتا۔ پاردھیوں کی چھوٹی سی بستی یہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔
اسکول، جس کی کھڑکیاں نیلے رنگ کی ہیں، جس کی دیواریں رنگ برنگے کارٹونوں اور ہندوستان کی آزادی کے جنگجوؤں کے پینٹ شدہ چہروں سے مزین ہیں اور جو ہلکے زرد رنگ کا کنکریٹ کا ایک ڈھانچہ ہے، آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتا ہے۔ عارضی جھونپڑیوں اور ترپال کی چھتوں والے مٹی کے مکانوں (جن میں ۲۰ پاردھی کنبے قیام کرتے ہیں) کے درمیان اسکول کی یہ عمارت مزید نمایاں ہوکر ابھرتی ہے۔
’’اتا امچیایکڈے وکاس مہنجے نی شالاچ آہے۔ وکاساچی نشانی [ہمارے یہاں ترقی کے نام پر صرف یہ اسکول ہے]،‘‘ احمد نگر ضلع کے نگر تعلقہ میں واقع پئوٹکا بستی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ۴۶ سالہ اتل بھوسلے کہتے ہیں۔
’’دوسرا کائے نہیں۔ وستیت یایلا راستہ نائے، پانی نائے، لائٹ نائے، پکی گھر نائیت [سڑکیں نہیں ہیں۔ پانی نہیں ہے۔ بجلی نہیں ہے۔ پکے مکان نہیں ہیں]۔ اسکول قریب ہے، اس لیے ہمارے بچے کم از کم پڑھنا لکھنا سیکھ رہے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اتل کو اس چھوٹے سے تعلیمی ادارہ پر فخر ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان کے بچے ساحل اور شبنم ۱۶ دیگر طلباء (سات لڑکیاں اور نو لڑکوں) کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
یہ وہی اسکول ہے جسے ریاستی حکومت کسی اور مقام پر منتقل کرنے اور ضم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ اقدام خط افلاس سے نیچے زندگی بسرکرنے والی برادری کے لیے ایک صدمہ کی طرح ہے۔ پاردھی ایک خانہ بدوش گروہ اور ایک ڈی نوٹیفائیڈ (غیر شناخت شدہ) قبیلہ ہیں، جنہیں مہاراشٹر میں درج فہرست قبائل کے زمرہ میں رکھا گیا ہے۔
یہ قبیلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے سے انتہائی قسم کے امتیازی سلوک اور محرومی کا شکار رہا ہے۔ سال ۱۸۷۱ میں برطانوی حکومت نے ایک قانون، ’مجرمانہ قبائل ایکٹ‘ (سی ٹی اے) نافذ کیا تھا۔ اس قانون کا مقصد تقریباً ۱۲۰ قبائلی گروہوں اور دیگر ذاتوں کو کچلنا تھا۔ ان میں زیادہ تر وہ گروہ تھے جو برطانوی تسلط کو قبول نہیں کرتے تھے۔ ان میں پاردھی بھی شامل تھے۔ اس قانون کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اگر آپ ان گروہوں میں سے کسی ایک میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ پیدائشی مجرم ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد سی ٹی اے کو ۱۹۵۲ میں منسوخ کر دیا گیا تھا، اور اس سے متاثرہ برادریوں کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا تھا، لیکن بدنامی کا داغ کبھی نہیں چھوٹا۔ پاردھیوں کو باقاعدہ روزگار حاصل کرنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ ان کے بچے، جو باقاعدہ اسکولوں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں ڈرایا اور اکثر مارا پیٹا جاتا ہے۔
















