اوچت مہاترے کو اپنی کلاس کا تنہا طالب علم ہونے کی عادت تھی۔ لیکن پورے اسکول میں وہ اکیلا طالب علم ہوگا، یہ اس نے کبھی سوچا نہیں تھا۔
وبائی مرض کے سبب لگے لاک ڈاؤن کے ۱۸ مہینے کے اندر جب ۱۲ سالہ اوچت پچھلے سال ۴ اکتوبر کو صبح ۱۱ بجے اپنے اسکول پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ اسکول کی تینوں کلاسیں خالی ہیں۔ وہاں صرف اس کے ایک ٹیچر اور کرسی پر رکھی مہاتما گاندھی کی ایک تصویر ہی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
سال ۲۰۱۵ میں جب اوچت نے پہلی کلاس میں داخلہ لیا تھا، تب وہ ۶ سال کا تھا، لیکن اُس وقت بھی وہ اپنی کلاس میں اکیلا تھا۔ وہ بتاتا ہے، ’’فقط میچ ہوتو [صرف میں ہی تھا]۔‘‘ اتنا ہی نہیں، وہ اپنے اسکول میں داخلہ لینا آخری طالب علم تھا، اور اس دوران کل ملا کر ۲۵ بچے اس اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہ تمام بچے گھارا پوری گاؤں کے تین ٹولہ، مورا بندر، راج بندر، اور شیت بندر سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں تقریباً ۱۱۰۰ لوگ رہتے ہیں۔ گھارا پوری جزیرہ مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں واقع ہے، جو ایلیفینٹا غاروں کے سبب ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ جنوبی ممبئی میں واقع گیٹ وے آف انڈیا سے، یہ کشتی سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہے۔
اوچت کے ضلع پریشد (زیڈ پی) اسکول میں، پہلی کلاس سے ۷ویں کلاس تک کی پڑھائی ہوتی ہے۔ وہا ایک دہائی پہلے تک ۵۵ سے ۶۰ طلباء پڑھتے تھے۔ گزشتہ برسوں میں وہاں پڑھنے والے طلباء کی تعداد میں خاصی گراوٹ آئی اور سال ۲۰۱۹ تک وہاں صرف ۱۳ طلباء بچے تھے۔ مارچ ۲۰۲۰ میں یہ تعداد گھٹ کر ۷ رہ گئی۔ اور ۲۱-۲۰۲۰ کے سیشن میں، ۷ویں کلاس میں پڑھنے والے ۳ طلباء کی پڑھائی پوری ہو گئی اور دو طالب علم اسکول چھوڑ کر چلے گئے، تو صرف دو طلباء ہی باقی رہ گئے تھے: کلاس ۶ میں پڑھنے والا اوچت مہاترے اور کلاس ۷ کی گوری مہاترے۔ گوری بتاتی ہے، ’’یہاں پڑھائی ٹھیک سے نہیں ہو رہی تھی، اسی وجہ سے تمام لوگ یہاں سے جانے لگے۔‘‘


















