رمیش شرما کو یاد نہیں ہے کہ انہوں نے آخری بار کب پورا سال اپنے گھر پر گزارا تھا۔ ’’میں گزشتہ ۱۵-۲۰ برسوں سے یہی کر رہا ہوں،‘‘ وہ ہریانہ کے کرنال ضلع میں گگسینا گاؤں کے ایک کھیت میں گنّے کی کٹائی کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
سال کے چھ مہینے – اکتوبر سے مارچ تک – ۴۴ سالہ رمیش، بہار کے ارریہ ضلع میں واقع اپنے گاؤں، شوئرگاؤں سے ہجرت کرکے ہریانہ اور پنجاب جاتے ہیں اور وہاں زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ’’میں بہار میں کاشتکاری کرنے سے کہیں زیادہ ہریانہ میں زرعی مزدوری کرکے پیسے کماتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
شوئرگاؤں میں رمیش کے پاس تین ایکڑ کھیت ہے، جس پر وہ سال میں چھ مہینے کھیتی کرتے ہیں۔ وہ خریف موسم کے دوران (جون- نومبر) دھان اُگاتے ہیں۔ ’’اس میں سے زیادہ تر خود کے کھانے کے لیے ہوتا ہے،‘‘ وہ گنّے کی کٹائی سے نظریں ہٹائے بغیر کہتے ہیں۔
شرما نقدی فصل کے طور پر ہر سال ربیع کے موسم (دسمبر- مارچ) میں مکئی اُگاتے ہیں۔ لیکن اس فصل سے انہیں شاید ہی مکئی ملتی ہے۔ ’’میں نے پچھلے سال [۲۰۲۰] اپنی فصل ۹۰۰ روپے فی کوئنٹل فروخت کی تھی،‘‘ وہ کہتے ہیں، جب انہوں نے ۶۰ کوئنٹل فصل کاٹی تھی۔ ’’کمیشن ایجنٹ نے اسے ہم سے گاؤں میں ہی خرید لیا تھا۔ سالوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔‘‘
رمیش نے جو قیمت حاصل کی، وہ مرکزی حکومت کے ذریعہ مکئی کے لیے ۲۰۱۹-۲۰ کے لیے طے کی گئی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) – ۱۷۶۰ روپے فی کوئنٹل – سے ۵۰ فیصد کم تھی۔ بہار میں حکومت کے ذریعہ چلائی جانے والی منڈیوں میں ایم ایس پی پر فروخت کرنا اب کوئی متبادل نہیں رہا، اس لیے شرما جیسے چھوٹے کسانوں کو براہ راست کمیشن ایجنٹوں سے مول تول کرنا پڑتا ہے۔
سال ۲۰۰۶ میں، حکومتِ بہار نے بہار زرعی پیداوار بازار قانون، ۱۹۶۰ کو منسوخ کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ، ریاست میں زرعی پیداوار بازار کمیٹی (اے پی ایم سی) منڈی نظام ختم ہو گیا تھا۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس قدم سے زرعی شعبہ میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور کسانوں کو نجی ملکیت والے تجارتی علاقے حاصل ہوں گے۔ لیکن اے پی ایم سی کو ختم کرنے سے بہار کے کسانوں کو بہتر نتائج حاصل نہیں ہوئے اور انہیں بچولیوں پر مزید منحصر ہونا پڑا اور قیمتیں تاجروں کے ذریعہ طے کی جانے لگیں۔








