کونو کے چیتوں سے متعلق معلومات اب قومی سلامتی کا معاملہ بن گیا ہے، اور اس کی خلاف ورزی سے بیرونی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات شدید طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
کم از کم مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے تو یہی وجہ بتائی گئی، جب جولائی ۲۰۲۴ میں حق معلومات (آر ٹی آئی) کے تحت چیتوں کے انتظام کے بارے میں تفصیلات طلب کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ بھوپال سے تعلق رکھنے والے کارکن اجے دوبے، جنہوں نے یہ آر ٹی آئی داخل کی تھی، کہتے ہیں، ’’باگھوں سے متعلق تمام معلومات شفاف ہیں، پھر چیتوں کے بارے میں کیوں نہیں؟ جنگلی جانوروں کے انتظام میں شفافیت معمول ہونا چاہیے۔‘‘
کُونو پارک سے ملحق اگارا گاؤں سے تعلق رکھنے والے رام گوپال اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے ذریعہ معاش سے ہماری قومی سلامتی اور سفارتی تعلقات کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کو اور ان جیسے ہزاروں آدیواسیوں کو دیگر مسائل کا سامنا ہے۔
حال ہی میں رام گوپال نے ٹریکٹر کا استعمال شروع کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اچانک بیلوں کی بجائے مشین خریدنے کے متحمل ہوگئے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔
’’مودی جی نے حکم صادر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے بیلوں کو باندھ کر رکھنا ہے۔ لیکن واحد چراگاہ [کونو] جنگل میں ہے اور اگر ہم داخل ہوئے تو جنگل کے رینجر ہمیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیں گے۔ پھر ہم نے سوچا چلو ایک ٹریکٹر ہی کرایے پر لے لیتے ہیں۔‘‘
اس خرچ کا بوجھ رام گوپال اور ان کا کنبہ بمشکل برداشت کر سکتا ہے۔ ان کی گھریلو آمدنی انہیں مضبوطی کے ساتھ خط افلاس سے نیچے قائم رکھے ہوئی ہے۔ کونو نیشنل پارک کے چیتوں کا مسکن بننے کے بعد جنگل پر مبنی ان کے ذریعہ معاش کو شدید نقصان پہنچا ہے۔






















