علاج کے لیے جسم سے خون نکالنا، تقریباً ۳ ہزار سالوں تک طب کا ایک عام طریقہ تھا۔
اس کی ابتدا ہِپّوکریٹس کے اس خیال سے ہوئی تھی، اور جو بعد میں چل کر دورِ وسطیٰ کے یوروپ میں کافی مقبول ہوا: کہ جسم کے چار عناصر – خون، بلغم، کالا پِتّ، پیلا پت – کا عدم توازن مرض کا سبب بنتا ہے۔ ہپوکریٹس کے تقریباً ۵۰۰ سال بعد، گیلن نے خون کو سب سے اہم عنصر بتایا۔ ان خیالات اور جراحی کے تجربات اور، اکثر، توہم پرستی سے پیدا ہونے والے دیگر خیالات کے نتیجے میں جسم سے خون نکالا جانے لگا کہ اگر مریض کو بچانا ہے، تو اس کے جسم کو خراب خون سے آزاد کرنا ہوگا۔
خون نکالنے کے لیے جونک کا استعمال کیا جاتا تھا، جس میں ادویاتی جونک ہیروڈو میڈیسن لِس بھی شامل ہے۔ ہمیں کبھی پتا نہیں چل پائے گا کہ ان ۳ ہزار سالوں میں اس طریقہ علاج سے کتنے لوگوں کی جان گئی، کتنے انسان لاشوں میں تبدیل ہو گئے، جن کا خون بہاکر ڈاکٹروں نے اپنی طبی و نظریاتی خام خیالی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ انگلینڈ کے راجا چارلس دوئم نے مرنے سے پہلے اپنا ۲۴ اونس خون نکلوایا تھا۔ جارج واشنگٹن کے تین ڈاکٹروں نے ان کے گلے کے انفیکشن کا علاج کرنے کے لیے (خود ان کی درخواست پر) کافی مقدار میں خون نکالا تھا – ان کا جلد ہی انتقال ہو گیا۔
کووڈ- ۱۹ نے ہمیں نیو لبرل ازم کی ایک شاندار، مکمل آٹوپسی دی، جو درحقیقت سرمایہ داری کے بارے میں ہی ہے۔ لاش میز پر پڑی ہے، چکاچوند روشنی میں، ہر نس، شریان، عضو اور ہڈی ہمارے چہرے کو گھور رہی ہے۔ آپ سبھی جونکوں کو دیکھ سکتے ہیں – پرائیویٹائزیشن، کارپوریٹ گلوبل ازم، حد سے زیادہ دولت کا ذخیرہ، تازہ یادداشت میں کبھی نہ دیکھی گئی غیر برابری کی سطح۔ سماجی اور اقتصادی برائیوں کے لیے خون نکالنے کا نظریہ، جس نے معاشروں کو کام کرنے والے لوگوں سے ان کے مہذب اور باوقار انسانی وجود کو چھینتے ہوئے دیکھا ہے۔
تین ہزار سال پرانا یہ طریقہ علاج ۱۹ویں صدی میں یوروپ میں اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔ ۱۹ویں اور ۲۰ویں صدی کے آخر میں اس کا استعمال کم ہونے لگا – لیکن اصول اور برتاؤ ابھی بھی اقتصادیات، فلسفہ، تجارت اور سماج کے موضوعات پر حاوی ہیں۔


















