جولائی سے نومبر ۲۰۱۷ تک، ودربھ کے کپاس پیدا کرنے والے ضلع، خاص طور سے یوت مال، میں دیکھنے کو ملا کہ گھبراہٹ، چکر آنا، نظر نہ آنا اور پیٹ میں درد کی شکایت کے ساتھ لوگ اچانک بھاری تعداد میں اسپتالوں میں بھرتی ہونے لگے۔ وہ سبھی کپاس کی کھیتی کرنے والے کسان یا مزدور تھے، جو اپنے کھیتوں میں حشرہ کش ادویات کو چھڑکتے وقت زہر کے رابطہ میں آئے تھے۔ کم از کم ۵۰ کی موت ہو گئی، ایک ہزار سے زیادہ بیمار ہو گئے، کچھ تو مہینوں کے لیے۔ اس تباہی نے کپاس اور سویابین کی فصلوں پر حشرہ کش کے بے لگام اور بے انتہا استعمال کی پول کھول دی، جس سے ودربھ کے زرعی نظام پر دور رس اثر پڑے گا۔
تین حصوں پر مشتمل اس سیریز کی پہلی اسٹوری میں، پاری یہ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس مدت میں اس علاقے میں کیا ہوا اور مہاراشٹر حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ خصوصی جانچ ٹیم نے کیا پایا۔
آگے کی رپورٹ میں، ہم اس بڑی کہانی کا پتہ لگائیں گے کہ ودربھ میں اتنی مقدار میں حشرہ کش کی کھپت کیوں ہو رہی ہے۔ اور بی ٹی کاٹن – جینیاتی طور پر ایک ترمیم شدہ جنس جس کا دعویٰ ہے کہ اس پر کیڑوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا – پر پرانے کیڑوں نے کیوں حملہ کر دیا۔ دراصل، گلابی رنگ کے کیڑے انتقام کے ساتھ واپس آ گئے ہیں۔ انھوں نے بھاری تباہی مچائی ہے۔









