جولائی سے نومبر ۲۰۱۷ کے درمیان وِدربھ کے کپاس اُگانے والے ضلعے، خاص کر یوت مال میں دیکھنے کو ملا کہ اچانک سے بڑی تعداد میں لوگ اسپتال جانے لگے، یہ شکایت لے کر کہ انھیں بے چینی ہو رہی ہے، چکّر آ رہا ہے، آنکھوں سے کم دکھائی دے رہا ہے اور پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔ یہ تمام لوگ کپاس اُگانے والے کسان یا مزدور تھے، جو اپنے کھیتوں میں حشرہ کش دوائیں چھڑکنے کے دوران زہر کے رابطے میں آئے تھے۔ کم از کم ۵۰ کی موت ہو گئی اور ۱۰۰۰ سے زیادہ بیمار پڑ گئے، جن میں سے کچھ مہینوں تک بیمار رہے۔

تین حصوں والی اس اسٹوری کے دوسرے حصہ میں، پاری یہ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس علاقہ میں آخر کیا ہوا تھا اور مہاراشٹر حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے کیا پایا۔

اس کے بعد، ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وِدربھ میں آخر اتنی مقدار میں حشرہ کش دواؤں کا استعمال کیوں ہو رہا ہے۔ اور پرانے کیڑے نے بی ٹی کاٹن پر کیوں حملہ کر دیا ہے – جب کہ جینیاتی طور پر ترمیم شدہ کپاس کی اس قسم کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس پر کیڑوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ گلابی رنگ کے کیڑے انتقام لینے واپس لوٹ آئے ہیں – اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا رہے ہیں۔

*****

سنجے بورکھاڑے کا زہر کے ڈر اور خوف سے صحت یاب ہونا ابھی باقی ہے۔ ’’میری آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہو چکی تھی، لیکن میں بچ گیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ مجھے آنکھوں میں اب بھی جلن ہوتی ہے، اور میں تکان محسوس کرتا ہوں۔‘‘

آندھ آیواسی، ۳۵ سالہ سنجے گزشتہ ۱۵ برسوں سے زرعی مزدور رہے ہیں؛ ان کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے۔ ان تمام سالوں میں، جن کیمیکلس کو وہ چھڑکتے رہے ہیں، ان کا اتنا ہولناک اثر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

جس دن وہ بیمار پڑے، اس دن انھوں نے ۵-۶ گھنٹے تک چھڑکاؤ کیا تھا۔ یہ اکتوبر ۲۰۱۷ کی بات ہے، جب سنجے نے ایک ہفتہ تک اپنے گاؤں میں کپاس کے اس ۱۰ ایکڑ کھیت پر حشرہ کش دوائیں چھڑکی تھیں، جہاں وہ سالانہ ٹھیکہ پر کام کرتے ہیں۔ ملک کے اس حصہ میں اس نظام کو سالداری کہتے ہیں۔ اس سے سنجے کو سالانہ ۷۰ ہزار روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ سنجے یوت مال کی نیر تحصیل کے چکھلی (کانہوبا) گاؤں میں رہتے ہیں۔ تقریباً ۱۶۰۰ لوگوں کی آبادی والے اس گاؤں میں، تقریباً ۱۱ فیصد آندھ اور دیگر درج فہرست قبیلے کے لوگ ہیں۔

The inside of a hut with utensils and clothes
PHOTO • Jaideep Hardikar

زرعی مزدور سنجے بورکھاڑے کی سات رکنی فیملی چکھلی کانہوبا گاؤں کی اس ایک کمرہ والی جھونپڑی میں رہتی ہے

’’حشرہ کش دواؤں سے بیماری اور موت کے بارے میں میں گاؤں کی عورتوں سے سنا کرتی تھی،‘‘ ان کی بیوی تُلسا کہتی ہیں۔ ایک دن جب سنجے بھی بیمار پڑ گئے، تو تُلسا ڈر گئیں کہ ان کی بینائی بھی جا سکتی ہے۔ جتنے دن انھوں نے اسپتال میں گزارے، وہ فیملی کے لیے کافی مشکل بھرے تھے۔ ’’یہ میری خوش قسمتی تھی کہ وہ ٹھیک ہوکر واپس آ گئے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ورنہ میں اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرتی؟‘‘

سنجے اپنی فیملی (اس اسٹوری کی کور تصویر میں موجود) میں کمانے والے واحد شخص ہیں۔ ان کی فیملی میں شامل ہیں تُلسا، ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا، اور ان کی بوڑھی ماں۔ وہ لکڑی کے ستونوں، مٹی کی دیواروں اور گھاس پھوس کی چھت سے بنی ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ اس کے اندر سامان بکھرے ہوئے ہیں – چند برتن، ایک چارپائی – لیکن ان کے بچوں کی ہنسی سے یہ گھر بھرا رہتا ہے۔

سنجے اُس تباہ کن واقعہ کو یاد کرنے سے گھبرا رہے ہیں جس کی وجہ سے مغربی وِدربھ کے کپاس بیلٹ، زیادہ تر یوت مال ضلع میں، تقریباً ۵۰ کسانوں اور زرعی مزدوروں کی موت ہو گئی تھی۔ (دیکھیں ہولناک کیڑے، موت کا چھڑکاؤ) ان کی موت ستمبر اور نومبر ۲۰۱۷ کے درمیان اچانک زہر کے رابطہ میں آنے یا اس میں سانس لینے کی وجہ سے ہوئی۔ تقریباً ۱۰۰۰ کسان اور زرعی مزدور مہینوں تک بیمار رہے۔ (یہ تعداد ریاستی حکومت نے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں سے جمع کیے تھے۔)

وہ علاقہ جو کسانوں کی خودکشی کی وجہ سے بدنام ہے، حشرہ کش دواؤں سے زہر پھیلنے کا یہ بالکل الگ ماجرا تھا۔

’’ایک شام کو ہم نے کھیت پر چھڑکاؤ تقریباً مکمل کر لیا تھا، جیسا کہ ہم ہر سال کرتے تھے،‘‘ کسان اور گاؤں کے سرپنچ، اُدھو راؤ بھالے راؤ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، انہی کے کھیت پر سنجے کام کرتے ہیں۔ اُس شام کو تقریباً ۵ بجے، سنجے اپنے کھیت مالک کے گھر سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ آئے۔ اُدھو راؤ انھیں فوراً ہی اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا کر وہاں سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور، اَرنی شہر لے کر بھاگے۔ اور پھر وہاں سے مزید ۴۰ کلومیٹر دور، یوت مال ضلع کے سرکاری اسپتال لے گئے۔ ’’ہم حشرہ کش دواؤں کے زہر کے بارے میں تو سنتے آ رہے تھے، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمیں بھی اس کا سامنا کرنا پڑ جائے گا،‘‘ اُدھو راؤ کہتے ہیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پورا اسپتال اس قسم کے زہر کے اثرات سے متاثر ہونے والے کسانوں سے بھرا ہوا تھا۔

یہ ایک حیران کردینے والا اور تکلیف دہ واقعہ تھا۔ ’’ہم نے اسی کیمیکلس کو استعمال کیا تھا، جسے ہم کئی برسوں سے استعمال کرتے آ رہے تھے – غیر مقامی پودوں کا زہر اور سیدھا اثر کرنے والے کیمیکلس کا آمیزہ۔‘‘ بھالے راؤ کے مطابق، واحد چیز جو اس بار الگ تھی، وہ حد سے زیادہ حبس اور کپاس کے پودوں کا تیزی سے بڑھنا تھا۔

جنوری میں جب میں نے چِکھلی کانہوبا کا دورہ کیا، تو کسان گلابی کیڑے سمیت متعدد کیڑوں کے تباہ کن حملے سے حیران تھے، جس کی شروعات جولائی ۲۰۱۷ میں ہوئی تھی۔ اور زرعی کسان حشرہ کش دواؤں کے آمیزہ والے زہریلے دھوئیں میں سانس لینے کی وجہ سے بیمار پڑنے کے بعد صحت یاب ہو رہے تھے۔

گاؤں کے پانچ مزدور، حد سے زیادہ لمبے، موٹے اور گھنے کپاس کے پودوں پر چھڑکاؤ کرنے کے بعد، ستمبر- اکتوبر میں بیمار ہو گئے تھے۔ سنجے سمیت، ان میں سے چار بچ گئے۔ لیکن آندھ برادری کے ایک غریب کسان، ۴۵ سالہ دیا نیشور ٹالے، اسپتال میں دو مہینے گزارنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئے۔ انھیں سب سے پہلے یکم اکتوبر، ۲۰۱۷ کو ارنی کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال لے جایا گیا۔ اگلے دن، ان کو یوت مال ضلع کے سرکاری اسپتال لایا گیا۔ وہاں ایک مہینہ رکھنے کے بعد اسپتال نے انھیں ناگپور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال ریفر کر دیا، جہاں ان کی موت ہو گئی۔

Two men walk around the village of Chikhli Kanhoba
PHOTO • Jaideep Hardikar
A man talking in the foreground with a man and woman sitting in the background in the village of Chikhli-Kanhoba
PHOTO • Jaideep Hardikar

بائیں: گیانیشور کی تصویر کے ساتھ ٹالے فیملی۔ دائیں: گاؤں کے سرپنچ اور زمین کے مالک اُدھو راؤ بھالے راؤ ٹالے فیملی کے گھر پر

’’وہ ایک دن ٹھیک ہو جاتے اور پھر بری طرح بیمار پڑ جاتے۔ ہم نے سوچا کہ وہ زندہ بچ جائیں گے، لیکن وہ نہیں بچے،‘‘ ان کے چھوٹے بھائی گجانن، ایک زرعی کسان، کہتے ہیں، جو اپنے بھائی کے ساتھ اخیر تک اسپتال میں رہے۔ ایک دوسرا بھائی، بندو، بھی کچھ دنوں کے لیے نابینا ہو گیا تھا؛ زہریلے سانس کے بعد وہ بچ گیا۔

گیانیشور کی شکایت، سنجے کی طرح ہی، آنکھوں میں جلن سے شروع ہوئی – اور پھر پھیل گئی۔ میڈیکل ریکارڈ دکھاتا ہے کہ حشرہ کش دواؤں نے اس کی قوتِ مزاحمت اور اہم عضلات کو بری طرح خراب کر دیا تھا، اور سب میں انفیکشن ہو گیا تھا۔ سرکاری طور پر، ان کی موت کی وجہ تھی ’سیپٹی سیمیا‘۔

ان کے تین بچے اب تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں – اور اپنے والد کی موت کے غم میں مبتلا ہیں۔ ۱۹ سال کی کومل ۱۲ویں کلاس میں ہے، ۱۷ سالہ کیلاش ۱۰ویں میں ہے، اور سب سے چھوٹی ۱۵ سالہ شیتل ۹ویں کلاس میں ہے، سبھی اَرنی شہر میں پڑھتے ہیں۔ گیانیشور چاہتے تھے کہ ان کے بچے اسکول جائیں، تعلیم یافتہ بنیں اور زندگی میں خوشحال بنیں – لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔

ان کی بیوہ، انیتا زرعی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کی بزرگ ماں، چندر کلا زندگی بھر دوسرے کے کھیتوں پر مزدوری کرتی رہیں۔ ’’پورے گاؤں نے ہماری مدد کے لیے پیسے جمع کیے،‘‘ انیتا کہتی ہیں، ’’لیکن ہمارے پاس جو تھوڑا بہت سونا تھے اسے بھی ہمیں بیچنا پڑا، اور ان کے علاج اور دیگر خرچوں کے لیے ہم نے [پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے] ۶۰-۶۵ ہزار روپے قرض لیے۔‘‘

A young boy and two young girls, all sblings, stand in their house
PHOTO • Jaideep Hardikar

گیانیشور ٹالے اپنے بچوں، کیلاش، کومل اور شیتل کو تعلیم یافتہ اور خوشحال بنانا چاہتے تھے

ستمبر- نومبر کی مدت ہمارے گاؤں کے لیے سب سے زیادہ چنوتی بھرا وقت تھا،‘‘ بھالے راؤ کہتے ہیں، جو چِکھلی کانہوبا میں سب سے محترم شخص ہیں۔ ’’ہم چار کو بچانے میں تو کامیاب رہے، لیکن گیانیشور کو نہیں بچا سکے۔‘‘

یہ چنوتی بھرا وقت شروع میں کپاس کی اچھی پیداوار والا سال (جولائی ۲۰۱۷ – مارچ ۲۰۱۸) رہا، لیکن بعد میں کیڑوں کے زبردست حملے کی وجہ سے سب سے تباہ کن ثابت ہوا۔ بھالے راؤ کے کھیت پر بھی، پرانا کیڑا – گلابی رنگ کا کیڑا – دہائیوں کے بعد واپس لوٹ آیا تھا۔ اس کیڑے کو آخری بار ۱۹۸۰ کے عشرے میں دیکھا گیا تھا۔ ۱۹۹۰ کے عشرے میں سنتھیٹک پائیریتھرائڈس کے استعمال، اور سال ۲۰۰۱ کے بعد بی ٹی- کاٹن کی آمد سے، اس کیڑے کے تئیں مزاحمت پیدا ہوئی تھی۔ لیکن یہ اب حشرہ کش دواؤں اور بی ٹی، دونوں پر ہی اثر انداز ہو رہا ہے (اس کے بارے میں مزید اگلی سیریز میں دیکھیں۔)

زہر کے پھیلنے اور مستقبل میں ایسے خطرات کو روکنے کے لیے قدم اٹھانے کی سفارش کرنے کے لیے، اکتوبر ۲۰۱۷ میں حکومت مہاراشٹر کے ذریعہ تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ جمع کر دی ہے۔ دیگر اقدام کے علاوہ اس نے سفارش کی ہے کہ مونوکروٹوفوس پر پابندی لگا دی جائے، جو کہ ایک مقبول لیکن خطرناک حشرہ کش دوا ہے۔ (دیکھیں کیڑوں کے حملے پر ایس آئی ٹی رپورٹ)

بھالے راؤ کہتے ہیں کہ اس تباہی کا مقامی زرعی اقتصادیات پر بہت بڑا اثر پڑے گا۔ اس سال ان کی کپاس کی پیداوار ۵۰ فیصد گھٹ گئی ہے – ان کے ۸ ایکڑ کھیت پر فی ایکڑ ۱۲-۱۵ کوئنٹل کی پیداوار ہوتی تھی، جن کی سینچائی کنویں سے ہوتی تھی، لیکن ۲۰۱۷-۱۸ میں مشکل سے ۵-۶ کوئنٹل پیداوار ہوئی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کیڑے لگنے کی وجہ سے کپاس کی کوالٹی پر اثر پڑا ہے۔ کم پیداوار کی وجہ سے مقامی اقتصادیات میں کم پیسوں کا بہاؤ ہو رہا ہے۔ پیسے کے کم بہاؤ کا مطلب ہے کم مزدوری یا زرعی مزدوروں کے لیے کم کام۔ جب تک کہ سرکار منریگا جیسی اسکیموں کے ذریعہ کام کا انتظام نہیں کرتی، اس سے خریداریوں، شادیوں، انفراسٹرکچر پر خرچ اور دیگر اخراجات پر برا اثر پڑ رہا ہے – اور پہلے سے ہی محدود گاؤں کی اقتصادیات مزید سکڑ رہی ہے۔

مزید برآں، بھالے راؤ کہتے ہیں کہ اموات اور اسپتالوں میں بھرتی ہونے کی وجہ سے کھیت مالکوں اور زرعی مزدوروں کے درمیان موجود رشتوں پر سالوں تک اثر پڑے گا۔ حشرہ کش دواؤں کا چھڑکاؤ – جو کہ پیداواری عمل کا ایک اہم حصہ ہے – عام طور سے مزدوروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے، جو کہ اب چھڑکاؤ کرنے سے ڈر رہے ہیں۔ زہر کے پھیلنے کا واقعہ یوت مال میں ہوا تھا، لیکن اس کی وجہ سے بہت سے کسانوں کو مزدوروں سے یہ کام کرانے میں پریشانی پیش آ رہی ہے۔ چھڑکاؤ کا کام چونکہ اس وقت رکا ہوا ہے، اس لیے فصلوں پر تیزی سے کیڑے لگ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار پر مزید اثر پڑ رہا ہے۔

’’ہمیں اب اپنے زرعی مددگاروں کا اعتماد اور بھروسہ دوبارہ حاصل کرنا پڑے گا،‘‘ بھالے راؤ کہتے ہیں۔ ’’ہمیں مالی نقصان کا سامنا کرنا ہوگا، لیکن زندگی کے نقصان کا کیا کیا جائے؟ ہم خوش قسمت تھے کہ ہم چار کی زندگیاں بچا سکے، لیکن ہم گیانیشور کو نہیں بچا سکے...‘‘

سنجے بھی گیانیشور کی موت سے غم زدہ ہیں، وہ کہتے ہیں، ’’ایک اچھی چیز یہ رہی کہ بحران نے ہم سب کو ایک برادری کے طور پر متحد کر دیا۔‘‘ ان مشکل دنوں میں گاؤں کا ہر آدمی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ زمین مالکوں نے بھی زرعی مزدوروں کے گھر والوں کو پیسے اور اخلاقی مدد فراہم کی۔ سنجے ابھی کام پر واپس نہیں لوٹے ہیں، اور بھالے راؤ نے بھی انھیں ایسا کرنے کے لیے ابھی تک مجبور نہیں کیا ہے۔ لیکن ان کا اعتماد ہل گیا ہے، اور انھیں پورا یقین نہیں ہے کہ وہ کھیت پر دوبارہ کام کرنے لوٹیں گے ہی، حشرہ کش دوائیں دوبارہ چھڑکنے کی بات تو بھول ہی جائیے۔ یا، وہ عہد کرتے ہیں، ’’اگلے سال چھڑکاؤ کرنے سے پہلے میں پوری احتیاط برتوں گا۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar