’’ہم لوگ چونکہ جنسی کام (سیکس ورک) کرتے ہیں، اس لیے وہ سوچتے ہیں کہ ہم ہر چیز کی قیمت اپنے جسم سے ادا کریں۔‘‘ دل کا دورہ پڑنے سے شوہر کی اچانک موت ہو جانے کے بعد، اتر پردیش کے فرخ آباد شہر کی رہنے والی ۳۰ سالہ میرا، سال ۲۰۱۲ میں اپنے تین بچوں کے ساتھ دہلی آ گئی تھیں۔ اب وہ کافی غصے میں ہیں اور بہت زیادہ تھک چکی ہیں۔
۳۹ سالہ امیتا، اسپتال کے مرد مددگاروں اور وارڈ اسسٹنٹ کے ذریعے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرنے کی نقل کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’مجھے دوائیں دیتے وقت وہ یہی کرتے ہیں،‘‘ اور اس شرمناک حرکت کو یاد کرکے وہ ناراضگی سے اپنا چہرہ موڑ لیتی ہیں۔ اس طرح ذلیل کیے جانے سے وہ ڈرتی ہیں، پھر بھی اپنی جانچ کرانے یا دوائیں لینے کے لیے وہ سرکاری اسپتال جانے کو مجبور ہیں۔
وہیں، ۴۵ سالہ کُسُم بتاتی ہیں، ’’ہم جب اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانے جاتے ہیں، اور انہیں پتہ چل گیا کہ ہم سیکس ورکرز(جنسی کارکنان) ہیں، تو وہ مدد کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں، ’پیچھے سے آ جانا۔‘ اس کے بعد وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ہمیں غلط طریقے سے چھونے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ کُسُم، ۱۶ ریاستوں کی ساڑھے چار لاکھ سیکس ورکرز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم، آل انڈیا نیٹ ورک آف سیکس ورکرز (اے آئی این ایس ڈبلیو) کی سابق صدر ہیں اور ان کی اس بات سے اس کمیونٹی کی بہت سی عورتیں اتفاق کرتی ہیں۔
پاری نے دہلی کے شمال مغربی ضلع میں واقع روہنی علاقے میں جنسی کارکنان کے ایک گروپ سے اُن کے ایک اڈّے پر ملاقات کی۔ ان میں سے زیادہ تر کو اب وبائی مرض کی وجہ سے کام نہیں مل پا رہا ہے۔ یہ عورتیں گرم کپڑوں میں ملبوس سردی کی ایک دوپہر میں اُس کمیونٹی شیلٹر میں بیٹھی ہوئی ہیں اور ٹفن باکس میں پیک کرکے لائی ہوئی گھر کی بنی سبزی، دال اور روٹی مل بانٹ کر کھا رہی ہیں۔













