
SANGUR, PUNJAB
|SAT, MAR 27, 2021
ہندوستان کے مختلف آلاتِ موسیقی کی دھُن
ملک بھر میں بجائے جانے والے آلاتِ موسیقی اتنے ہی قسم کے ہیں جتنا کہ خود دیہی ہندوستان – ہماچل پردیش کے رُباب اور چنگ جیسی کھنجری، مغربی بنگال کا بانم اور گبگُبی، مہاراشٹر کے بڑے سینگ جیسے تارپا، چھتیس گڑھ کی گھمانے والی بانسری اور بانس باجا، مختلف ریاستوں کی دھمسی، ڈھول، ڈھولک، ڈھاپ اور ڈولو۔ اکثر، یہ اور کئی دیگر آلاتِ موسیقی نسلوں کی وراثت کو آگے بڑھانے والے ماہر کاریگروں کے ذریعہ ہاتھ سے تیار کیے جاتے ہیں – جیسے نرسنگ پیٹئی میں نادسورم بنانے والے، ماپلاپور میں مردنگم، کاسرگوڈ میں بانس کے ڈھول اور پیروویمبا میں چمڑے کا آلہ موسیقی بنانے والے۔ حالانکہ موسیقی کی ان روایات میں سے کئی زوال آمادہ ہیں، لیکن کئی کی آوازیں تیز اور واضح طور پر سنائی دیتی ہیں، جیسا کہ پاری کی یہ اسٹوریز دکھاتی ہیں – جن کی دھُن اب بھی ویسی ہی ہے اور دیہی پس منظر میں گونج رہی ہے
Author
Translator
27. مدورئی میں کومبو کی دھیمی ہوتی آواز
کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے
26. ’پھولوں کے ہار کی طرح رقص‘
سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں
25. دِنکر آئیولے کی محنت سے بنی بے شمار بانسری
مہاراشٹر کے کوڈولی گاؤں کے استاد دستکار اور موسیقی ساز دِنکر آئیولے ڈیڑھ لاکھ گھنٹے تک بانسری بنانے کا کام کر چکے ہیں – لیکن لاک ڈاؤن اور دیگر چنوتیوں کے سبب یہ کام اور موسیقی پھیکنی پڑنے لگی ہے
24. غائب ہوتی: منی رام کی بانسری، اورچھا کے جنگل
بانسری بنانے والے، چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے گونڈ آدیواسی، منی رام منڈاوی اُس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب جنگل جانوروں، درختوں اور اُس بانس سے بھرے ہوتے تھے جس سے وہ ایک خاص قسم کی ’گھمانے والی بانسری‘ بناتے ہیں
23. رقص اور گانے کے ذریعہ کسانوں کا احتجاج
جنوری کے آخر میں ممبئی کے آزاد میدان میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں، مہاراشٹر کے ڈہانو تعلقہ کی آدیواسی برادریوں کے دھُمسی اور تارپا بجانے والوں نے رقص اور گانے کے ذریعہ نئے زرعی قوانین کی مخالفت کی
22. پیروویمبا: اپنی لے کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن میں سامان فروخت نہیں ہونے، اور اپنے ڈھول کے لیے کچا چمڑا خریدنے میں مشکلات کے سبب، کیرالہ کے پیروویمبا گاؤں میں آلات موسیقی بنانے والے کڑچی کولّن کاریگروں کو مستقل آمدنی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے
21. بانس گیت: چھتیس گڑھ میں گائے کے چرواہوں کی دھن
گوالا برادری سے تعلق رکھنے والے پنچ رام، بابو لال اور سہدیو یاد وسطی چھتیس گڑھ کے بالود ضلع میں اب بھی بانس باجا گیت بجاتے ہیں، لیکن یہ روایتی آلہ موسیقی اور گیت اب مقبول نہیں رہے
20. ’’ہم ہنستے، گاتے اور جھومتے ہوئے دہلی پہنچیں گے‘‘
مہاراشٹر کے مختلف ضلعوں سے تقریباً ۱۰۰۰ کسان، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی ہیں – گاڑی، ٹیمپو، جیپ اور کاروں کے ذریعہ دہلی کے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت اور پر عزم قافلہ ہے
19. بیربھوم سے غائب ہوتی جل، جنگل، زمین کی آوازیں
آدیواسی برادریوں میں مقبول، اور ان کے ذریعہ بنائے جانے والے موسیقی کے ساز اب غائب ہو رہے ہیں۔ اور مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں ایسا ہونے کی وجہ ثقافتی نہیں، بلکہ کچھ اور ہے
18. دُرگا پوجا سے ڈھاکی ابھی غائب نہیں ہوئے
دیہی بنگال کے روایتی ڈھول بجانے والوں کو اس موسم میں کولکاتا میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
17. ساز کو ٹھیک کرنے والے زندگی سے پریشان
ہارمونیم کی مرمت کرنے والے جبل پور، مدھیہ پردیش کے کئی کاریگر لاک ڈاؤن کے سبب دو مہینے سے مہاراشٹر کے ریناپور میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاری کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتایا
16. راجما اور مکئی، رُباب اور کھنجری
چمبا ضلع کے ایک کسان و موسیقار، پریم لال کو حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنیں
15. نُوا پاڑہ کے مغنی اور اناج کی دیوی
اگرچہ دیب گروؤں کے ہنر کی روایت ختم ہو رہی ہے اور اسے ریاستی سرپرستی کی ضرورت ہے، لیکن وہ اوڈیشہ میں دھان سے مورتیاں اور دوسری چیزیں بنانے کے ساتھ ساتھ لکشمی پُران گاتے ہوئے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں
14. مایلاپور کے مردنگم ساز
جیسوداس اور ان کے بیٹے ایڈوِن ماہر کاریگر ہیں، جنہیں چنئی کی کرناٹک موسیقی دنیا اور دیگر جگہوں پر مردنگم بنانے کے لیے جانا جاتا ہے، حالانکہ انھیں آج بھی کبھی کبھار ذات پر مبنی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے
13. کاسرگوڑ کے بانس کا ڈھول بجانے والے
کیرالہ کے پرپّا گاؤں میں تہواروں اور دیگر پروگراموں کے دوران ماویلن آدیواسی برادری کے لوگ ’گھاس‘ پر ڈھول بجاتے ہیں، اور سال کے باقی دن یومیہ مزدوری کرتے ہیں
12. ساز، گیت، نعرے
ناسک میں ۲۰-۲۱ فروری کو ہوئی کسانوں کی ریلی میں، کئی لوگ اپنے روایتی موسیقی آلات کے ساتھ آئے تھے، جس سے احتجاجی ریلی میں ساز اور گیت بھی شامل ہو گیا
11. اچھوٹی میں ناچ کے لیے باجا
مغربی اوڈیشہ میں دلت برادریوں کے موسیقار ہر سال رائے پور کے ایک چوراہے پر اکٹھا ہوتے ہیں، اور چھتیس گڑھ کے او بی سی رقص گروہوں کے ذریعہ کام پر رکھے جانے کا انتظار کرتے ہیں
10. پہاڑوں میں مہاجر موسیقار
راجستھان کے زرعی مزدور ہر سال اپریل-مئی کے مہینوں میں ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں راون ہاتھا بجانے جاتے ہیں، جو کہ ایک مشہور صدیوں پرانا مقامی آلہ موسیقی ہے، اور اس سے موسمی آمدنی کماتے ہیں
9. ’پہاڑ، جنگل اور ندیاں ہیں ہمارے دیوتا‘
اوڈیشہ کی نیامگیری پہاڑیوں میں رہنے والے آدیواسیوں نے کانکنی کے خلاف اپنی لڑائی تو ۲۰۱۳ میں ہی جیت لی تھی، لیکن اُن کی آبائی زمین کو اب بھی خطرہ لاحق ہے۔ وہاں کے ایک شاعر اور سماجی کارکن، راج کشور سُنانی نے حالیہ دنوں منعقد ہونے والے نیامگیری میلہ میں انہی حالات پر مبنی ایک گیت سنایا
8. ہیسر گھٹّا میں ڈولو پر رقص
بنگلورو کے نواح میں نوجوان عورتیں کنّڑ ڈھول اور رقص کی اس شکل میں مہارت حاصل کر چکی ہیں جسے کبھی طاقتور مردوں کا ہنر تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں پیش کیے گئے ویڈیو میں، خواتین کی اس جماعت کو پوری توانائی اور لَے کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
7. اچار اور پاپڑ سے آگے ڈھول اور خواب
گاؤں والوں کے طعنوں، شوہر کی گالیوں، اور ذات سے متعلق صدیوں پرانے خیالات سے لڑتی، بہار کے ڈھیبرا گاؤں کی دس دلت عورتوں نے ایک بینڈ بنایا ہے – اور اب ان کی تال پر بہت سے لوگ ناچنے اور جھومنے لگے ہیں
6. باسودیب باؤل: بنگال کا افسانوی گیت گا رہے ہیں
موسیقی کا باؤل کلچر، زندگی کے اتحاد پسندانہ فلسفہ کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پر دکھائی جا رہی فلم میں، بیربھوم ضلع کے بولپور سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اور ٹیچر، باسودیب داس باؤل، زندگی کے اس طریقہ اور آرٹ کی شکل کے بارے میں بتا رہے ہیں
5. ڈھول، بیگ پائپ اور چھولیا رقص
اتراکھنڈ کی چھولیا منڈلی اسکاٹش بیگ پائپ کو دیہی ہندوستانی موسیقی میں ڈھالتی ہے
4. جب میناکشی ایک برتن کو ۳۰۰۰ بار پیٹتی ہیں
آٹھ کلوگرام مٹی، جو مانامدروئی، تمل ناڈو میں خوبصورت موسیقی پیدا کرتی ہے
3. پُنگ
اس روایتی ڈھول کو منی پور کی میئی تیئی برادری کی ثقافت، اور رقص و موسیقی میں مرکزی مقام حاصل ہے
2. نرسنگا پیٹئی کے ناد سُوَرَم بنانے والے
یہ دستکار کئی نسلوں سے ہوا سے بجنے والا ساز بناتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن نئی نسل چونکہ زیادہ پیسے والے کاموں کی طرف بھاگ رہی ہے، اس لیے یہ فن موت کے دہانے پہنچ چکا ہے۔
1. گجرات کے ڈانگ میں پاوری بجاتے ہوئے
ڈانگ کی آدیواسی برادریوں کے اس روایتی ساز کو سنیں
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/ہندوستان-کے-مختلف-آلاتِ-موسیقی-کی-دھُن




























