بوراٹی گاؤں کی ایک بزرگ، سونا بائی بھوسلے کو پوری طرح بالغ ایک شیر نے ۲۰۱۶ کے وسط میں ان کے کھیت پر ہلاک کر دیا تھا، جو گاؤں کے گھروں سے ۵۰۰ میٹر کی دوری پر جنگل کے ایک حصہ سے سٹا ہوا ہے۔ بوراٹی گاؤں جلانے کی لکڑی، جنگل کی چھوٹی پیداوار اور مویشیوں کو چرانے کے لیے جنگلات پر منحصر ہے۔
’’ہم تبھی سے خوف اور تشویش میں مبتلا ہیں، جنگلی جانور ہماری فصلوں کو کھا جاتے ہیں – اور اب شیر کا ڈر،‘‘ مقامی سماجی اور سیاسی کارکن رمیش کھنی کہتے ہیں، جو گاؤں والوں کا ایک وفد لے کر محکمہ جنگلات کے افسروں، ضلع کلکٹر اور مقامی لیڈروں کے پاس گئے تھے۔
۵۰ گائیں اور ایک شیر
برسوں سے، اترام کا روزانہ کا معمول ایک جیسا ہی رہا ہے۔ وہ اپنے دن کی شروعات گایوں کو نہلانے سے کرتے ہیں اور پھر انھیں چرانے کے لیے اپنے گاؤں کے پاس کے جنگلوں میں لے جاتے ہیں۔
وہ شام کو لوٹتے ہیں، اور اگلے دن کی شروعات دوبارہ ویسے ہی کرتے ہیں۔ وہ پہلے ایک گائے کے ماہانہ ۱۰۰ روپے لیا کرتے تھے۔ ’’ہم نے مطالبہ کیا کہ ان کے خطروں کو دیکھتے ہوئے یہ مزدوری بڑھائی جائے،‘‘ سلوچنا کہتی ہیں۔ گاؤں والے اب انھیں فی گائے ۱۵۰ روپے ماہانہ دیتے ہیں – ۵۰ روپے کا اضافہ، خطرہ کو کور کرنے کے لیے! وہ کہتی ہیں۔ ’’میرے پاس دیکھ بھال کے لیے عام طور پر ۵۰ گائیں ہوتی ہیں،‘‘ وہ ایک شام کو جنگلوں سے گھر لوٹنے پر بتاتے ہیں۔ ’’اگر میں یہ کرنا بند کر دوں، تو اور کیا کروں گا؟‘‘
گاؤں والوں نے اترام کو صاف صاف کہہ دیا ہے: ’’اگر آپ مصیبت میں ہوں، تو ہماری گایوں کی پرواہ نہ کریں۔‘‘ یہ ایک بڑی راحت ہے، وہ کہتے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنا خیال رکھتے ہیں۔ ’’شیر نے پچھلے دو برسوں میں ریوڑ سے کئی گایوں کو مار ڈالا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جب میں اپنی گائے کھوتا ہوں تو مجھے دکھ ہوتا ہے اور خوشی ہوتی ہے کہ میں زندہ ہوں۔‘‘
اترام کبھی اسکول نہیں گئے، نہ ہی ان کی بیوی۔ لیکن ان کے تین بچے پڑھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ پڑھائی کریں، بھلے ہی گزر بسر کے لیے انھیں اپنی جان خطرے میں کیوں نہ ڈالنی پڑے۔ دِشا نے ابھی پاس کے کالج سے بی اے سال اول کی پڑھائی پوری کی ہے۔ ویشنوی نے اس سال ۱۰ویں کلاس پاس کر لیا ہے۔ اور سب سے چھوٹا انوج، ایک رہائشی اسکول میں ۹ویں کلاس میں ہے۔
سلوچنا گاؤں کی آنگن واڑی معاون کے طور پر کام کرتی ہیں اور تقریباً ۳۰۰۰ روپے پاتی ہیں۔ ’’ہر صبح، میں ان کے بحفاظت لوٹنے کی دعا کرتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہر شام، میں جب انھیں گھر واپس دیکھتی ہوں، تو شیر کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘‘
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)