بیس کیمپ میں نئے سرے سے امید اور جوش دکھائی دے رہا تھا، جہاں ہری وردیوں میں ملبوس مرد و خواتین اپنے سیل فون پر پیغامات، نقشوں اور تصویروں کی لگاتار نگرانی کر رہے تھے۔

اُس دن صبح سویرے، ایک کھوجی ٹیم نے پاس کے جنگل کے ایک حصے میں پیروں کے تازہ نشان دیکھے تھے۔

محکمہ جنگلات کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ایک دوسری ٹیم، کپاس کے کھیتوں اور آبی ذخائر سے گھرے جھاڑی دار جنگل کے ۵۰ مربع کلومیٹر کے علاقے میں لگائے گئے ۹۰ کیمروں میں سے ایک سے، شیر کی کچھ دھندلی تصویروں کے ساتھ لوٹی ہے۔ ’’دھاریاں مادہ جیسی دکھائی دے رہی ہیں،‘‘ ہری وردی پہنے جنگل کے ایک نوجوان اہلکار نے کہا، اس کی آواز تناؤ بھری ہے۔ ’’تصویر صاف نہیں ہے،‘‘ اس کا سینئر کہتا ہے، ’’ہمیں اور بھی صاف چاہیے۔‘‘

کیا یہ اس کی ہو سکتی ہے؟ کیا وہ آس پاس ہی ہو سکتی ہے؟

جنگل کے محافظوں، تلاش کرنے والوں اور تیز نشانہ بازوں کی ٹیمیں ایک اور مشکل دن کے لیے الگ الگ سمت میں پھیلنے والی تھیں، ایک شیرنی کی تلاش میں، جو اپنے دو بچوں کے ساتھ تقریباً دو سال سے پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔

شیروں نے کم از کم ۱۳ دیہی باشندوں پر حملہ کرکے انھیں مار دیا تھا – وہ ان سبھی معاملوں میں مشتبہ تھی۔

وائلڈ لائف وارڈن کے حکم کے مطابق کہ شیرنی کو ’پکڑو یا مار دو‘، دو مہینے سے بڑا آپریشن چل رہا تھا۔ لیکن دونوں میں سے کوئی بھی متبادل آسان نہیں تھا۔ ۲۸ اگست ۲۰۱۸ سے، اس نے اپنا کوئی سراغ نہیں دیا تھا۔ کیمرے کی ایک چھوٹی سی بیپ، یا پیروں کے نشان، اسے ڈھونڈنے یا پکڑنے کی کوشش میں لگی ٹیموں کے درمیان امید جگا دیتے۔

For over two months, a 'base camp' was set up between Loni and Sarati villages in Vidarbha’s Yavatmal district, involving 200 tiger-trackers mandated to ‘capture or kill’ the tigress
PHOTO • Jaideep Hardikar

دو مہینے تک، وِدربھ کے یوتمال ضلع کے لونی اور سراٹی گاؤوں کے درمیان ایک ’بیس کیمپ‘ قائم کیا گیا تھا، جس میں شیر کا پتہ لگانے والے ۲۰۰ لوگوں کو شیرنی کو ’پکڑنے یا مارنے‘ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی

* * * * *

یہ وسط اکتوبر کے اتوار کی ایک صبح ہے، جب سردیوں کی ٹھنڈ شروع ہونی باقی ہے۔ ہم جنگل کے ایک دور کے حصے میں ہیں، جہاں افسروں نے ایک عارضی ٹینٹ لگایا ہے، جسے وہ مغربی وِدربھ کے یوتمال ضلع میں لونی اور سراٹی گاؤوں کے درمیان اس آپریشن کا بیس کیمپ بتا رہے ہیں۔ یہ علاقہ، کپاس کے کسانوں کی لگاتار خودکشی کی وجہ سے بدنام ہے۔

یہ رالیگاؤں تحصیل ہے، جو قومی شاہراہ ۴۳ کے شمال میں، وڈکی اور اُمری گاؤوں کے درمیان واقع ہے۔ یہاں بنیادی طور سے گونڈ آدیواسیوں کے گھر ہیں، جن میں سے اکثر چھوٹے اور غریب کسان ہیں جو کپاس اور مسور کی کھیتی کرتے ہیں۔

شیر کا پتہ لگانے والی ٹیم میں محکمہ جنگلات کے ۲۰۰ اہلکار ہیں – گارڈ، مہاراشٹر فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے وائلڈ لائف وِنگ کے رینج فاریسٹ آفیسر، ریاست کا فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن، ضلع فاریسٹ افسر، چیف فاریسٹ کنزرویٹر (وائلڈ لائف) اور وائلڈ لائف وِنگ کا سرکردہ افسر، پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (پی سی سی ایف، وائلڈ لائف) شامل ہیں۔ یہ سبھی مل کر کام کرتے ہیں، چوبیسوں گھنٹے فیلڈ میں تعینات رہتے ہیں، جنگلی بلی اور اس کے دو بچوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ گروپ میں حیدر آباد کے تیز نشانہ بازوں کی ایک خصوصی ٹیم ہے، جس کی قیادت نواب شفاعت علی خان کر رہے ہیں، جو ایک دولت مند گھرانے کے ۶۰ سالہ تربیت یافتہ شکاری ہیں۔ نواب کی موجودگی نے افسروں اور مقامی محافظوں کو تقسیم کر دیا ہے، جو ان کے رول سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں۔ لیکن وہ خطرناک جنگلی جانوروں کو نیوٹرلائز کرنے یا مارنے کے لیے، ہندوستان بھر کے وائلڈ لائف افسروں کے لیے ایک اہم شخص ہیں۔

’’انھوں نے ایسا کئی بار کیا ہے،‘‘ ان کے ٹیم کے رکن سید معین الدین خان کہتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے، انھوں نے ایک شیرنی کو نیوٹرلائز کرکے پکڑا تھا، جس نے ہندوستان کے ۵۰ مشہور ٹائیگر ریزروس میں سے ایک، تاڈوبا نیشنل پارک کے قریب دو لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

انھوں نے بہار اور جھارکھنڈ میں چھ مہینے میں ۱۵ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ایک ’’شریر‘‘ ہاتھی کو پکڑ لیا، اور تیندوے کو گولی ماری جس نے مغربی مہاراشٹر میں سات لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

لیکن یہ کیس الگ ہے، چشمہ لگائے ہوئے نرم لہجہ والے نشانہ باز، ڈارٹس فائر کرنے والی ہرے رنگ کی رائفل کو گھماتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’شیرنی اپنے بچوں کے ساتھ ہے،‘‘ شفاعت علی بیس کیمپ میں کہتے ہیں، جہاں وہ اتوار کی صبح اپنے بیٹے اور وردی پہنے معاونین کی ایک ٹیم کے ساتھ پہنچے ہیں، ’’ہمیں پہلے اسے نیوٹرلائز کرنا ہوگا اور پھر اس کے دونوں بچوں کو بھی پکڑنا ہوگا۔‘‘

’’کہنا آسان ہے مگر کرنا مشکل‘‘، ان کے بیٹے اصغر کہتے ہیں، جو اس آپریشن میں اپنے والد کی مدد کر رہے ہیں۔ شیرنی کو صاف دیکھ پانا بہت مشکل ہے جس سے یہ آپریشن طویل ہوتا جا رہا ہے۔

وہ تیزی سے اپنی جگہ بدل رہی ہے اور کہیں بھی آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں رکتی، یہاں سے تقریباً ۲۵۰ کلومیٹر دور، ناگپور کے پینچ ٹائیگر ریزرو سے اس آپریشن کے لیے ایک مہینہ پہلے بلایا گیا، اسپیشل ٹاسک فورس کا ایک شخص بتاتا ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ ٹیم کے کچھ لوگ مایوس ہو گئے ہیں۔ تحمل ہی [کامیابی کی] کنجی ہے، لیکن وہ اسے کھوتے جا رہے ہیں۔

The road between Loni and Sarati where T1 was sighted many times by villagers.
PHOTO • Jaideep Hardikar
A hoarding in Loni listing the 'do's and don'ts' for villagers living in T1's shadow
PHOTO • Jaideep Hardikar

بائیں: لونی اور سراٹی کے درمیان کی سڑک جہاں ٹی- ۱  کو گاؤں والوں نے کئی بار دیکھا تھا۔ دائیں: لونی میں ایک ہورڈنگ، جس میں ٹی- ۱ کے خوف میں جی رہے دیہی باشندوں کے لیے لکھا ہوا ہے کہ ’کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا‘

ٹی- ۱ – جسے مقامی لوگ اَونی کہتے ہیں – کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اس نے رالیگاؤں میں دو سالوں میں ۱۳ سے ۱۵ دیہی باشندوں کو مارا ہے۔ وہ یہاں، تحصیل کی ہری جھاڑیوں اور گھنے جنگلوں میں کہیں چھپی ہوئی ہے۔

اس نے دو سال میں، ۵۰ مربع کلومیٹر علاقہ کے تقریباً ایک درجن گاؤوں میں خوف و دہشت پھیلائی ہے۔ گاؤوں والے ڈرے ہوئے ہیں، اور فصل کی کٹائی کا موسم ہونے کے باوجود کپاس کے اپنے کھیتوں میں جانے سے ہچکچاتے ہیں۔ ’’میں نے ایک سال سے اپنے کھیت نہیں دیکھے ہیں،‘‘ کلا بائی شینڈرے کہتی ہیں، جن کے شوہر لونی گاؤں میں ٹی- ۱ کے شکار بن چکے لوگوں میں سے ایک تھے۔

ٹی- ۱ کسی پر بھی حملہ کر سکتی ہے – حالانکہ اس نے ۲۸ اگست کو بیس کیمپ کے شمال میں واقع پمپل شینڈا گاؤں میں اپنے آخری شکار کے بعد سے کسی انسان پر حملہ نہیں کیا ہے۔ وہ حملہ آور اور برخلاف قیاس ہے، جن لوگوں نے اسے دیکھا ہے ان کا کہنا ہے۔

جنگل کے افسران پریشان ہیں؛ اگر ایک اور انسان پر حملہ ہوا، تو مقامی لوگوں کا غصہ ابل پڑے گا۔ دوسری طرف، شیر کے شائقین اور محافظین ٹی- ۱ کو مارنے کے حکم کے خلاف عدالت میں معاملہ دائر کر رہے ہیں۔

پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (وائلڈ لائف)، اے کے مشرا، جو اس آپریشن کے لیے اپنے ڈپٹی کے ساتھ پاس کے پانڈھرک وڈ میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں، چار مہینے میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ’’سر یہیں ریٹائر ہو سکتے ہیں،‘‘ ان کا ایک نوجوان افسر بتاتا ہے۔

* * * * *

وائلڈ لائف کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ٹی- ۱ سے شروع نہیں ہوا تھا اور نہ ہی یہ اس کی موت سے ختم ہوگا۔ یہ اصل میں بگڑنے والا ہے – اور ہندوستان کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

’’سر جوڑ کر بیٹھنے  اور ہماری حفاظتی حکمت عملی کو پھر سے تیار کرنے کا یہی صحیح وقت ہے،‘‘ ناگپور واقع وائلڈ لائف پروٹیکشن سوسائٹی آف انڈیا (ڈبلیو پی ایس آئی) کے مرکزی ڈائرکٹر، ڈاکٹر نتن دیسائی کہتے ہیں۔ ’’ہمیں شیر کی اس آبادی سے نمٹنا ہوگا، جس نے جنگل کے کسی قریبی علاقے کو نہیں دیکھا ہے یا نہیں دیکھے گی۔ ہم بنیادی طور پر اپنے ارد گرد منڈلانے والی جنگلی بلیوں کو دیکھ رہے ہیں۔‘‘

دیسائی کی باتیں سچ لگتی ہیں: ٹی- ۱ کے علاقے سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دور، امراوتی ضلع کی دھامن گاؤں ریلوے تحصیل میں ایک نوجوان شیر، جو شاید اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہے، نے ۱۹ اکتوبر کو منگرول دستگیر گاؤں کے ایک شخص کو اس کے کھیت پر ہلاک کر دیا تھا، اور تین بعد امراوتی شہر کے پاس ایک عورت کو مار دیا تھا۔

جنگلات کے افسروں کا ماننا ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے شیر نے چندرپور ضلع سے ۲۰۰ کلومیٹر سے زیادہ کی دوری طے کی، اور زیادہ تر غیر جنگل والے علاقوں کو پار کیا۔ ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو رہا ہے، انھوں نے سوچا۔ پھر اس شیر پر نظر رکھنے والے افسروں نے بتایا کہ وہ چندرپور سے تقریباً ۳۵۰ کلومیٹر دور کا سفر کرکے مدھیہ پردیش میں داخل ہو گیا ہے۔

ٹی- ۱ اس علاقہ میں ٹپیشور وائلڈ لائف سینکچوری سے آئی تھی، جو تقریباً ۵۰ کلومیٹر مغرب کی جانب، یوتمال ضلع میں ہے – وہ اپنی ماں کے دو بچوں میں سے ایک ہے، ڈسٹرکٹ فاریسٹ گارڈ اور شیر سے پیار کرنے والے رمضان ویرانی کہتے ہیں۔ ایک شیر، ٹی- ۲، جو اس کے دو بچوں کا باپ ہے، اس کے ساتھ ہی اس علاقے میں رہتا ہے۔

Shafath Ali (left, with the green dart gun) and his team leaving in their patrolling jeep from the base camp in Loni to look for T1, a hunt that finally ended on November 2, after two months of daily tracking, and two years of the tigress remaining elusive
PHOTO • Jaideep Hardikar

team leaving in their patrolling jeep from the base camp in Loni to look for T1, a hunt that finally ended on November 2, after two months of daily tracking, and two years of the tigress remaining elusive

شفاعت علی (بائیں، ہرے رنگ کی ڈارٹ بندوق کے ساتھ) اور ان کی ٹیم ٹی- ۱ کی تلاش میں لونی کے بیس کیمپ سے اپنی گشتی جیپ میں روانہ ہو رہی ہے، یہ تلاش آخرکار دو مہینے تک روزانہ کی تلاش اور شیرنی کے دو سال تک پکڑ سے باہر رہنے کے بعد، ۲ نومبر کو ختم ہوئی

’’وہ ۲۰۱۴ کے آس پاس اس علاقے میں آئی اور یہیں بس گئی،‘‘ پانڈھرک وڈ کے ایک کالج میں لکچرر، ویرانی کہتے ہیں۔ ’’ہم تبھی سے اس کی حرکت پر نظر رکھ رہے ہیں؛ کئی دہائیوں میں یہ پہلی بار ہے جب اس علاقے کو ایک شیر ملا ہے۔‘‘

آس پاس کے گاؤوں میں رہنے والے لوگ اس سے متفق ہیں۔ ’’میں نے اس علاقے میں کبھی شیر کی موجودگی کے بارے میں نہیں سنا ہے،‘‘ سراٹی گاؤں کے ۶۳ سالہ موہن ٹھیپالے کہتے ہیں۔ اب شیرنی اور اس کے دو بچوں کی کہانی چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔

یہ علاقہ، وِدربھ کے کئی دیگر خطوں کی طرح ہی، کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں – نئی یا چوڑی سڑکوں، بیمبلا سینچائی پروجیکٹ کی ایک نہر – کے درمیان چھوٹے چھوٹے جنگلوں کی آمیزش ہے، جس نے جنگل کے علاقے کو کافی حد تک مٹا دیا ہے۔

ٹی- ۱ نے سب سے پہلے جون ۲۰۱۶ میں، بوراٹی گاؤں کی ۶۰ سالہ خاتون سونا بائی گھونسلے کو مارا۔ (دیکھیں شیرنی ٹی- ۱ کے حملوں اور دہشت کے نشان) تب شیرنی کے پاس بچے نہیں تھے۔ اس نے ۲۰۱۷ کے اخیر میں انھیں جنم دیا۔ ٹکراؤ اگست ۲۰۱۸ میں بڑھنے لگا، جب ٹی- ۱ نے مبینہ طور پر تین مردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کا نیا شکار، ۲۸ اگست کو پمپل شینڈا گاؤں میں ۵۵ سالہ ایک چرواہا اور کسان، ناگوراؤ جُنگھرے تھے۔

تب تک چیف کنزرویٹر نے شیرنی کو مارنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ اس فیصلہ کو پہلے ہائی کورٹ میں اور بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس نے شیرنی کو زندہ نہ پکڑ سکنے کی حالت میں اسے ’ختم‘ کر دینے کی اجازت دینے کے ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔

تب کچھ کارکنوں نے صدر سے شیرنی کو معاف کر دینے کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا، جنگل کے افسران نے نشانے باز شفاعت علی کو مدعو کیا، لیکن جنگلی جانوروں کے محافظین کی مخالفت اور مرکزی وزیر مینکا گاندھی کی مخالفت کے بعد انھیں واپس بھیجنا پڑا۔

ستمبر میں، مدھیہ پردیش سے ماہرین کی ایک ٹیم بلائی گئی۔ یہ ٹیم چار ہاتھیوں کے ساتھ آئی اور چندر پور کے تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو سے پانچواں ہاتھی بلایا گیا۔

آپریشن کو ایک بڑا جھٹکا تب لگا، جب چندر پور سے آئے ہاتھی نے ایک دن آدھی رات کو اپنی زنجیر سے خود کو چھڑا لیا، اور وسط رالیگاؤں میں واقع بیس کیمپ سے بھٹک کر ۳۰ کلومیٹر دور، چاہند اور پوہنا گاؤوں میں دو آدمیوں کو ہلاک کر دیا۔

مہاراشٹر کے وزیر برائے جنگلات مُنگنٹی وار سامنے آئے؛ انھوں نے شفاعت علی خان کو واپس بلایا اور وائلڈ لائف وِنگ کے سربراہ اے کے مشرا سمیت، جنگلات کے سینئر افسران سے پانڈھرک وڈ میں تب تک تعینات رہنے کے لیے کہا، جب تک کہ شیرنی کو زندہ پکڑ نہیں لیا جاتا یا مار نہیں دیا جاتا۔ اس کی وجہ سے ناگپور میں کارکنوں کی مخالفت اور تیز ہو گئی۔

Forest guards and teams of villagers before starting a foot patrol from the base camp.
PHOTO • Jaideep Hardikar
 A forest trooper of the Special Task Force taking a break before another gruelling day to find T1 at the base camp near Loni village; behind him are the nets and other material that were to be used in the capture
PHOTO • Jaideep Hardikar

بائیں: بیس کیمپ سے پیدل گشت شروع کرنے سے پہلے فاریسٹ گارڈس اور گاؤوں والوں کی ایک ٹیم۔ دائیں: ٹی- ۱ کی کھوج میں ایک اور تھکا دینے والے دن سے پہلے، اسپیشل ٹاسک فورس کی جنگل میں گشت لگانے والی ٹکڑی کا ایک رکن، لونی گاؤں کے پاس بیس کیمپ میں تھوڑی دیر کے لیے آرام کر رہا ہے؛ اس کے پیچھے جال اور دیگر سامان ہیں جن کا استعمال شیرنی کو پکڑنے میں کیا جانا تھا

نواب کے دوبارہ حرکت میں آتے ہیں شیر کے مقامی محافظ اور جنگل کے کچھ افسر، مخالفت میں وہاں سے چلے گئے۔ انھوں نے شفاعت علی کے طریق کار پر بھی اعتراض جتایا – جن کا ماننا ہے کہ شیرنی کو زندہ نہیں پکڑا جا سکتا اور اسے مار دینا ہی سب سے اچھا متبادل ہے۔

نواب نے ہریانہ کے گولف کے سب سے ماہر کھلاڑی اور کتوں کی افزائش کرنے والے جیوتی رندھاوا کو اطالوی کین کورسو نسل کے اپنے دو کتوں کے ساتھ وہاں بلایا – شاید آس پاس سونگھنے کے لیے۔

پیراگلائیڈرس، ڈرون آپریشنز اور ٹریکرس کی ایک ٹیم کو کام پر لگایا گیا – لیکن سب کچھ لاحاصل رہا۔ ڈرون نے بہت شور مچایا۔ یہاں کی جغرافیائی حالت اور زمین پر گھنے جنگل کو دیکھتے ہوئے پیراگلائیڈرس کسی کام نہیں آ سکتے تھے۔

دیگر خیالات کو بھی خارج کر دیا گیا، جیسے کہ جال، چارہ، پیدل گشت۔

ٹی- ۱ پکڑ سے باہر، اور گاؤوں والوں کا خوف جوں کا توں بنا رہا۔ پورے ستمبر اور اکتوبر کے پہلے نصف میں کچھ بھی نہیں ہوا۔

* * * * *

پھر ایک سراغ ملا۔ وہ آس پاس ہی ہے۔

۱۷ اکتوبر کو، ایک ٹریکنگ ٹیم پرجوش ہو کر واپس لوٹتی ہے: ٹی- ۱ بیس کیمپ کے قریب ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے سراٹی گاؤں میں دیکھا ہے، جہاں ٹی- ۱ نے اگست ۲۰۱۷ میں، بیس کیمپ سے تین کلومیٹر دور ایک نوجوان کسان کو ہلاک کر دیا تھا۔

سبھی ٹیمیں حرکت میں آ گئیں اور اس جگہ کی طرف بھاگیں۔ وہ وہاں ہے۔ چاروں طرف سے گھر چکی شیرنی، غصے میں آکر ایک ٹیم پر حملہ کر دیتی ہے۔ تیز نشانے باز، نیوٹرلائز کرنے والے ڈارٹس کا استعمال کرنے کا خیال چھوڑ کر بیس کیمپ لوٹ جاتے ہیں۔ شیرنی جب حملہ کرنے کے لیے آپ کی طرف تیزی سے آ رہی ہو، تو آپ اس پر فائر نہیں کر سکتے۔

لیکن یہ اچھی خبر ہے۔ ٹی- ۱ بح تقریباً ۴۵ دنوں کے بعد اپنا ٹھکانہ چھوڑ دیا ہے۔ اب اس کی حرکت پر نظر رکھنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن اسے پکڑ پانا ابھی بھی مشکل اور ممکنہ طور پر خطرناک ہے۔

* * * * *

’’یہ ایک مشکل آپریشن ہے،‘‘ شفاعت علی کہتے ہیں۔ ’’بچے اب چھوٹے نہیں رہے۔ تقریباً ایک سال کے ہو چکے، وہ ایک ساتھ چھ سات مردوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔‘‘ اس لیے ٹریکر ایک شیرنی سے نہیں، بلکہ تین شیروں سے نمٹ رہے ہیں۔

مہاراشٹر کے جنگلات کے افسران پریس سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں، اس لیے آپریشن کی چھوٹی سے بڑی باتیں بتانے کی ذمہ داری حیدرآباد سے آئے شفاعت علی اور ان کی ٹیم پر چھوڑ دی گئی ہے۔

’’یہ غیر مناسب دخل اندازی ہے،‘‘ چشمہ لگائے ایک نوجوان رینج فاریسٹ افسر، ایک مراٹھی نیوز چینل کے ٹی وی کرو کے بارے میں غصے سے کہتا ہے۔ اسے شفاعت علی کے ذریعے پریس سے بات کرنے کا خیال پسند نہیں ہے۔

جنگلات کے افسر عوام کے دباؤ اور سیاسی فرمان کو سنبھال رہے ہیں، لیکن واضح طور سے قصور انہیں کے سر تھوپا جان ہے، پانڈھرک وڈ میں ایک مقامی وائلڈ لائف محافظ کہتے ہیں، جنہوں نے شفاعت علی کے ذریعے مورچہ سنبھالنے کے بعد اس آپریش سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ ’’انھوں نے حالات کو اپنے ہاتھوں سے باہر نکل جانے دیا۔‘‘

بیس کیمپ میں لکڑی کے ستون سے لٹک رہے ایک بڑے نقشے پر لال رنگ سے نشان زد علاقہ، پچھلے دو برسوں میں ٹی- ۱ کی نقل و حمل کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔

’’یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا نظر آ رہا ہے،‘‘ دن بھر کی تلاش کے بعد آرام کرتا ہوا ایک نوجوان گارڈ سمجھاتا ہے، ’’یہ ایک اوبڑ کھابڑ علاقہ ہے، جس میں بہت سارے کھیت، جنگلی گھاس پھوس، جھاڑیوں کے ڈھیر اور موٹے پیڑ پودے، چھوٹی چھوٹی ندیاں اور نالے ہیں -  یہ پیچیدہ ہے۔‘‘

وہ ہر آٹھ گھنٹے میں اپنی جگہ بدل رہی ہے، صرف رات میں باہر گھومتی ہے۔

۲۱ اکتوبر کو، سراٹی میں ایک آدمی نے دیر شام شیرنی اور اس کے بچوں کو دیکھا۔ وہ ڈر کے مارے گھر بھاگ گیا۔ ایک کھوجی ٹیم موقع پر پہنچی۔ تب تک، شیرنی اور اس کے دونوں بچے اندھیرے میں غائب ہو چکے تھے۔

اکتوبر کے دوسرے نصف میں، کئی ٹیموں نے ٹی- ۱ اور اس کے بچوں پر قریبی نظر رکھی۔ ۲۵ سے ۳۱ اکتوبر تک، گاؤں کے دو لوگ بال بال بچے – ایک بوراٹی میں، دوسرا آتمورڈی گاؤں میں۔ (دیکھیں ’میں جب انھیں گھر واپس دیکھتی ہوں، تو شیر کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘)

Even two dogs of an Italian breed were summoned for the tiger-tracking.
PHOTO • Jaideep Hardikar
T1’s corpse was sent to Gorewada zoo in Nagpur  for a postmortem

بائیں: شیرنی کو ڈھونڈنے کے لیے اطالوی نسل کے دو کتے بھی بلائے گئے تھے۔ دائیں: ٹی- ۱ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ناگپور کے گوریواڈہ چڑیاگھر بھیجا گیا تھا

دریں اثنا، شفاعت علی کو ایک میٹنگ میں حصہ لینے کے لیے بہار روانہ ہونا پڑا۔ ان کے بیٹے، اصغر علی اپنی ٹیم کے تیز نشانے بازروں کے ساتھ ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ ہندوستان بھر کے وائلڈ لائف کارکن ٹی- ۱ کو بچانے کے لیے عرضیاں اور مطالبات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ زمین پر، حالات نازک بنے ہوئے ہیں۔ کپاس کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے، لیکن پورے رالیگاؤں تحصیل میں کسان خوفزدہ ہیں۔

۲ نومبر کو گاؤں کے کئی لوگ، ٹی- ۱ کو بوراٹی کے آس پاس، رالیگاؤں جانے والی تارکول کی چکنی سڑک پر گھومتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ہے۔ گشت لگانے والی ایک ٹیم، اصغر اور ان کے معاونین کے ساتھ موقع پر پہنچتی ہے۔ ۳ نومبر، ہفتہ کے روز شفاعت علی بیس کیمپ لوٹتے ہیں۔

مہاراشٹر کے محکمہ جنگلات کے ۳ نومبر کے ایک بیان سے تصدیق ہوتی ہے کہ ٹی- ۱ کو پچھلی رات تقریباً ۱۱ بجے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ ملک میں اب تک کے سب سے لمبے آپریشنوں میں سے ایک ہے۔

جب شیرنی کو نیوٹرلائز کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی اور اس نے گشتی ٹیم پر خطرناک طریقے سے حملہ کر دیا، تو اصغر، جو ایک کھلی جیپ میں سوار تھے، نے مبینہ طور پر خود کو بچانے کے لیے اپنی رائفل کے ٹریگر کو دبایا اور ایک ہی شاٹ میں شیرنی کو مار گرایا، ایسا سرکاری بیان میں کہا گیا ہے۔

ٹی- ۱ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ناگپور کے گوریواڈہ چڑیاگھر بھیجا گیا تھا۔

پی سی سی ایف (وائلڈ لائف)، اے کے مشرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ ٹی- ۱ کے دو بچوں کو زندہ پکڑنے کے لیے نئے سرے سے منصوبہ بنا رہے ہیں۔

رالیگاؤں کے لوگوں کو راحت ملی ہے، لیکن وائلڈ لائف کارکن ٹی- ۱ کو مارنے کے طریقے، اور ضابطوں کی خلاف ورزی کے سوال کو لیکر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ایک شیرنی مر چکی ہے۔ لیکن شیر کے ساتھ انسانوں کا ٹکراؤ زندہ اور جاری ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar