سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی کٹوپَلّی کے ساحل پر زندگی کی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔ گھٹنوں تک سمندر کے پانی میں کھڑے ایرولر برادری کے لوگ خلیجِ بنگال کی لہروں کے پیچھے ہٹنے کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ خاص طور پر تیار کیے گئے جالوں کی مدد سے مدّوجزر کے دوران ساحل پر بہہ کر آنے والی کلِنجل (سمندری سیپیاں) تیزی سے جمع کرتے ہیں۔
’’مد (ہائی ٹائڈ) کے دوران ہم سیپیاں جمع نہیں کر سکتے، اس لیے ہم اس وقت تک انتظار کرتے ہیں جب تک پانی اترنا شروع نہ ہو جائے۔ اس دوران یا تو ہم کھانا کھانے گھر چلے جاتے ہیں یا پھر یہیں ساحل پر انتظار کرتے رہتے ہیں،‘‘ رمیش (جو صرف اسی نام سے اپنی شناخت ظاہر کرتے ہیں) کہتے ہیں۔ رمیش جیسے ایرولر برادری کے لوگوں کے لیے سیپیاں جمع کرنا محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک روایتی ذریعۂ معاش ہے، جو تمل ناڈو کے ترووَلّور ضلع میں سمندر کی مدّوجزر کے قدرتی نظام سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
جمع کی گئی سیپیوں کو پہلے دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے، پھر بیل گاڑیوں کے ذریعے ان مقامات تک پہنچایا جاتا ہے جہاں انہیں پیس کر چونے کے پتھر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ایک بیل گاڑی سیپیاں پہنچانے پر مزدوروں کو تقریباً ۵۰۰ روپے اجرت ملتی ہے، اور ایک آدمی ہفتہ میں اوسطاً سات چکر تک لگا لیتا ہے۔ بعد ازاں ان سیپیوں سے چونا اور سُنّامبو (پیسی ہوئی سیپیاں، جنہیں تعمیراتی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے) تیار کیا جاتا ہے۔
























