یہ نومبر کی نئے چاند کی رات ہے اور ۹ بجے کا وقت ہے۔ تمل ناڈو کے ساحل کے قریب پڑویرکاڈو (جسے پُلیکٹ بھی کہا جاتا ہے) میں ندی کے دہانے (اسچوئری) پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ نیلے رنگ کی ایک کشتی پانی پر موجود ہے، جو لہروں کے ساتھ کھلے سمندر کی طرف آگے بڑھ رہی ہے۔
سرت کمار، ارون کمار اور سیوت کمار کشتی پر پاؤں پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کے پیروں کے پاس لکڑی کے سات کمبھے اور نائیلان کے جالوں کے گولے پڑے ہوئے ہیں۔ ان تینوں کا تعلق ساحل پر واقع گاؤں تونیریوو سے ہے، اور یہ بچپن سے ہی مچھلیاں پکڑ رہے ہیں۔
اگرچہ میری پرورش سمندری ساحل سے بہت دور نہیں ہوئی تھی، اور میں اکثر سمندر میں اترنے کے خواب دیکھا کرتی تھی، لیکن میری والدہ (جو تنہا ماں تھیں) میری اور میری بہن کی حفاظت کے لیے بہت زیادہ فکرمند رہتی تھیں۔ لہٰذا سمندر میں اترنے کی سخت ممانعت تھی۔
پڑویرکاڈو کا میرا پہلا دورہ اس وقت ہوا جب میں ۱۶ سال کی تھی۔ میں نے چنئی کلائمیٹ ایکشن گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ فوٹو گرافی کی ورکشاپ میں شرکت کی تھی، جہاں فوٹو جرنلسٹ پلنی کمار نے میری رہنمائی کی تھی۔ میں سمندری ساحل کو اپنا گھر کہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو جاننا چاہتی تھی۔



























