’’میرے سسرال والوں نے اچھی دلہن لانے کے لیے اسے پیسے دیے تھے۔ یہ تو یہاں عام بات ہے۔‘‘ روما کھیچڑ بیس سال کی ہیں اور اپنی کہانی مجھ سے شیئر کر رہی ہیں۔ ’’دور سے یہاں (راجستھان) آ کر ہر کوئی نہیں رہ سکتا۔ میری جیٹھانی…‘‘
یشودا کھیچڑ (بدلا ہوا نام) اپنی بہو کی بات بیچ میں ہی کاٹ دیتی ہیں۔ ۶۷ سالہ یشودا کہتی ہیں، ’’پچاس ہزار لگا کر اس کو لائے تھے! پھر بھی سات سال کی بچی کو چھوڑ کر بھاگ گئی وہ۔‘‘
پنجاب سے آئی اپنی بڑی بہو کو لے کر یشودا ابھی تک ناراض ہیں کیوں کہ وہ بھاگ گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا، ’’وہ عورت! وہ یہاں تین سال رہی۔ اسے ہمیشہ سے زبان کا مسئلہ تھا۔ اس نے ہماری زبان کبھی نہیں سیکھی۔ ایک بار رکشا بندھن پر بولی کہ وہ شادی کے بعد پہلی بار اپنے بھائی اور گھر والوں سے ملنے جانا چاہتی ہے۔ ہم نے جانے دیا۔ اور پھر وہ کبھی واپس نہیں لوٹی۔ چھ سال ہو گئے ہیں۔‘‘
یشودا کی دوسری بہو روما کسی اور دلال کے ذریعے جھن جھنوں پہنچی تھی۔
اسے نہیں معلوم کہ اس کی شادی کس عمر میں ہوئی تھی۔ ایک گرد آلود الماری میں اپنا آدھار کارڈ تلاش کرتے ہوئے وہ بتاتی ہے، ’’میں کبھی اسکول نہیں گئی، اس لیے میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ میری پیدائش کس سال ہوئی تھی۔‘‘
اس کی پانچ سال کی بیٹی کو میں کمرے میں چارپائی پر کھیلتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔
روما کہتی ہیں، ’’شاید میرا آدھار کارڈ میرے شوہر کے پرس میں ہے۔ شاید میں ابھی تقریباً ۲۲ سال کی ہوں۔‘‘










