پچاس کی عمر پار کر چکیں اشوک رانی گونڈ کبھی اسکول نہیں گئیں، لیکن ان کا نو سالہ پوتا ایک دن بھی اسکول سے غیرحاضر نہیں رہا ہوگا۔ ’’ایک بھی دن نہیں چھوڑتا،‘‘ وہ ہنستے ہوئے پاری کو بتاتی ہیں۔
ان کا پوتا ان ۳۹ بچوں میں شامل ہے، جن کا داخلہ ڈَباکے پرائمری اسکول میں ہو رکھا ہے۔ تقریباً ۵۰۰ افراد (مردم شماری۲۰۱۱) پر مشتمل یہ گاؤں دموہ ضلع کے ایک گوشہ میں واقع ہے، جو چاروں طرف سے چھوٹی پہاڑیوں، کھلے گھاس کے میدان اور زرعی زمین کے قطعوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں زیادہ تر کنبے گونڈ آدیواسی برداری سے تعلق رکھتے ہیں اور تھوڑی بہت کھیتی کرتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں۔
سال ۲۰۱۳ کی اس رپورٹ کے مطابق بہت سے بالغ افراد کبھی اسکول نہیں گئے اور ۵۰ فیصد گونڈ آدیواسی آبادی ناخواندہ ہے۔
لہٰذا، ڈَبا میں ہمیشہ سے کچھ بے دلی سے اسکول جانے والے طلباء رہے ہیں۔ موسم کے لحاظ سے ان کی تعداد بدلتی رہتی ہے: جب کام ختم ہوجاتا ہے اور گھر والے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر ہجرت کرتے ہیں تو اسکول میں غیرحاضری بڑھ جاتی ہے۔ کچھ بچے وہاں رک کر صرف گھر کے ارد گرد کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آم، امرود اور دیگر درختوں پر چڑھنا کسی بھی ۶ سے ۹ سال کے بچے کے لیے بہت زیادہ پرکشش مشغلہ ہوتا ہے۔
اسکول کے دو اساتذہ میں سے ایک تاراچند یادو ہیں۔ ان کی پیدائش اور پرورش یہیں ہوئی ہے۔ ان کے پاس ان متامل طلباء کے لیے ایک حکمت عملی ہے۔ وہ ایک یا دو دن تک انتظار کرتے ہیں، اور پھر چند چاکلیٹوں کے ساتھ وہ اسکول سے گریزاں بچے کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ ’’میں پہلے والدین سے بات کرتا ہوں، اور ان سے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی درخواست کرتا ہوں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’وہ مجھ سے کہتے ہیں، ’ماسٹر صاحب، ہم صبح سویرے مزدوری کے لیے نکل جاتے ہیں... ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟‘‘‘















