’’آہ ہ ہ!‘‘ ان پانچوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلی غیر یقینی اور مایوسی کی آواز، اور اس کے فوراً بعد ان کا قہقہہ اُس گلی کی خاموشی کو توڑ دیتا ہے۔ ظاہر ہے، ہم پھر سے خود کو بیوقوف بنا بیٹھے تھے۔ چاروں چیرے ہوئے املی کے بیج سپاٹ گرنے کے بعد چار الگ الگ سمتوں میں بکھر گئے تھے۔ ہمیں انہیں اُس طرح نہیں اُچھالنا تھا جیسے لوڈو کے کھیل میں پانسہ کو اُچھالا جاتا ہے۔ ہالمّہ فوراً بیچ میں آ کر صحیح طریقہ بتاتی ہیں۔ وہ ہمیں غور سے دیکھنے کو کہتی ہیں، پھر وہ بیجوں کو سمیٹ کر کلائی کے ایک تیز، لیکن ہلکے سے گھماؤ کے ساتھ اچھالتی ہیں، جیسے کوئی لیگ اسپِن گیند باز گوگلی کرتا ہے۔
اس بار بیج حسب توقع الگ الگ طرح سے نیچے گرتے ہیں – کچھ اپنے سپاٹ، سفید پیٹ اوپر کی طرف کیے ہوئے۔ جتنے بیجوں کے پیٹ اوپر ہیں، اس کے حساب سے المنہ اپنی گوٹی آگے بڑھاتی ہیں۔ گوٹی ٹوٹی ہوئی، گہرے ہرے رنگ کی کانچ کی چوڑی کا ایک ٹکڑا ہے۔ ’’ایک گرتا ہے تو ایک، دو گرتا ہے تو دو، تین گرتا ہے تو تین، چار گرتا ہے تو چار،‘‘ وہ سمجھاتی ہیں۔ باہر سے آئیں دو نوآموز کھلاڑیوں کو، جنہیں کنّڑ زبان بہت کم یا بالکل نہیں آتی، کھیل سمجھانے کی ایک اور کوشش میں وہ ٹوٹی پھوٹی ہندی میں بات کرتی ہیں۔ وہ رنگے ہوئے خانوں پر ’ہماری‘ گوٹی آگے بڑھاتی ہیں اور پھر سے املی کے بیج اچھالتی ہیں۔ اب ان کی باری ہے۔





