
New Delhi, National Capital Territory of Delhi
|SUN, AUG 09, 2026
جنتر منتر پر جین زی
یہ کہانیاں اُس تحریک کا احاطہ کرتی ہیں جس کی قیادت جین زی (نئی نسل) نے شروع کی، اور بار بار ہونے والے پیپر لیک کے معاملے کو نمایاں کیا اور امتحانات و بھرتیوں کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ایک وسیع تر مہم کو جنم دیا۔ یہ احتجاج نئی دہلی کے جنتر منتر کے علاوہ ملک بھر میں جون اور جولائی ۲۰۲۶ کے دوران جاری رہے اور اس وقت ختم ہوئے جب مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ تقریباً ۳۶ دنوں تک جاری رہنے والے ان مظاہروں نے بے روزگاری کے حوالے سے عوامی بے چینی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں، وسیع تر نظام اور طرزِ حکمرانی پر گہرے ہوتے عدم اعتماد کو بھی اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا
Author
7. برگر، لنگر اور جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج
دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران جہاں ایک طرف بھوک ہڑتال نے لاکھوں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، وہیں دوسری طرف اس احتجاج کو عوام کی طرف سے ملنے والی بے پناہ حمایت کی بدولت ہزاروں مظاہرین کو وہاں کبھی بھوکے نہیں رہنا پڑا
6. دہلی پولیس اِس لائبریری کو نہیں ہٹا سکی
قومی راجدھانی میں احتجاج کے دوران بہت سے اختراعی قدم اٹھائے گئے، جن میں طلبہ کے ذریعہ طلبہ کے لیے کھولی گئی ایک موبائل لائبریری سب سے تخلیقی قدم تھا
5. ’لڑکیوں کو امتحان میں بار بار بیٹھنے کا موقع کون دیتا ہے؟‘
ریاستی سطح کے امتحانات پاس کر کے سرکاری نوکری کا خواب دیکھنے والی خواتین کو پدرشاہی رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے؛ ایسے میں ایک ناقص امتحانی نظام ان کے لیے دوہرا دھچکہ ثابت ہوتا ہے
4. ہمیشہ روپ بدلتی جمہوریت
ملک بھر کے نوجوان طلبہ مظاہرین کی متنوع آوازیں انصاف اور احتساب کے اپنے مطالبے کے ساتھ متحد ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں ایک شاعر جمہوریت کی ماہیت پر غور کرنے لگتا ہے
3. ’ہم غصے میں ہیں، اس لیے یہاں آئے ہیں‘
مغربی بنگال کے مختلف شہروں اور گاؤوں سے بڑی تعداد میں نوجوان کولکاتا میں جمع ہوئے تاکہ ملک کی راجدھانی میں احتجاج کر رہے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں
2. ’طلباء میرے جیسی ماؤں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں‘
نیٹ (این ای ای ٹی) کے امتحان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانیوں نے لاکھوں طلباء، خاص کر پس ماندہ اور سہولیات سے محروم طلباء کی زندگیوں کو برباد کر دیا ہے۔ کچھ کے لیے تو یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں کا بھی آخری باب تھا
1. ’پارلیمنٹ کو یاد دلانے آیا ہوں کہ ہم زندہ ہیں‘
جنتر منتر پر چل رہے احتجاج، اور پھر وہاں سے پارلیمنٹ تک مارچ میں شامل ہونے کے لیے ملک بھر کے چھوٹے شہروں اور گاؤوں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان دہلی پہنچے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/Gen-Z-at-Jantar-Mantar-ur








