میں نے اسے پہلی دفعہ کہاں دیکھا تھا؟ کسی کتاب میں، جسے میں نے پڑھی تھی؛ یا کسی دستاویزی فلم میں، جسے میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھی تھی؛ یا کسی نکڑ پر، جب وہ مٹھی باندھے ناانصافی پر جھپٹ رہی تھی؟ شاید وہ ایک نظم تھی۔ شاید کوئی آزادی کا نعرہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
سچ کہوں تو مجھے یاد نہیں کہ میں نے آخری بار اسے کب دیکھا تھا۔
اس نے اتنے چہرے اور نام بدلے ہیں کہ میری یادداشت کے لیے ان کا حساب رکھنا ناممکن ہے۔ کبھی وہ ڈنڈیگل کے کارخانے کی خاموشی کو توڑنے اور بکھرے ہوئے حالات کو یکجہتی کے دھاگے میں پرونے والی درزی بن جاتی ہے۔ کبھی وہ ایک ایسی زرعی مزدور بن جاتی ہے، جو ہُبلی سے بنگلورو تک کرائے کا ٹریکٹر خود چلا کر لاتی ہے، تاکہ جلوس میں شریک ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکے۔ اور کبھی جنوبی کیرالہ کی ایک بوڑھی کامریڈ بن جاتی ہے، جو گھر گھر جا کر کھانا جمع کرتی ہے تاکہ اس کے آس پاس کوئی بھوکا نہ رہے۔ وہ ایک روپ بدلنے والی ہستی ہے، جو اسی اٹل حوصلے اور ناقابل شکست جذبے کے ساتھ الگ الگ روپوں میں بار بار ظاہر ہوتی ہے۔
وہ دیکھو! مجھے وہ پھر نظر آئی ہے۔ اب وہ ایک نوجوان لڑکی ہے جو بیریکیڈز کے اوپر سے چھلانگ لگا رہی ہے۔ اور اگلے ہی پل، گرنے والوں کو سہارا دے رہی ہے۔ وہ ایک ایسی امید کی طرح نظر آتی ہے جو شکست تسلیم کرنا جانتی ہی نہیں۔
یہ زمین ہمیشہ سے اس کی زمین رہی ہے۔ آزاد۔


