ہندوستان میں بُنائی کی روایت اور انداز بیش قیمتی اور متنوع ہے، لیکن ملک کے کئی حصوں میں یہ شاندار ہنر زوال پذیر ہے اور بُنکروں کو کرگھے پر اپنا کام جاری رکھنے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں۔ اُن کی آمدنی کم ہونے لگی ہے، انہیں پاورلوم میں تیار سستے کپڑوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور ریاست کی طرف سے انہیں زیادہ مدد بھی نہیں ملتی۔
بُنکروں اور ان کے ذریعے کیے جانے والے کاموں کو ’پاری‘ میں ہم دستاویزی شکل دے رہے ہیں، صرف اس لیے نہیں کہ ان کا ہنر بے مثال ہے اور وہ سخت محنت کرتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ صدیوں پرانے اس ہنر کو زندہ رکھنے والے آخری افراد ہو سکتے ہیں۔
ہمارے پاس بہت ساری اسٹوریز ہیں – لداخ کے اسنیمو میں ایک پورٹیبل لوم کے بزرگ بُنکر، بہار کے بانکا ضلع میں شاندار توسر بنانے والے، آندھرا پردیش کے دھرما ورم میں ایک بُنکر کی خودکشی، تمل ناڈو میں ارَنی کے ہنرمند بُنکر کینٹین میں بطور ہیلپر کام کرنے کو کیوں مجبور ہیں، وغیرہ وغیرہ
یہ اور اس قسم کی اور بھی کئی اسٹوریز تصاویر، فلم، مضامین اور فوٹو البم کی شکل میں بُنکروں اور ان کے کاموں پر پاری کے بڑھتے ہوئے آرکائیو کا بیش بہا حصہ ہیں۔ ہم انہیں یہاں مجموعی شکل میں پیش کر رہے ہیں:























