اُن سے جب میرا تعارف کرایا گیا، تو میری پہلی سوچ یہی تھی کہ ان کا نام پوری طرح سے غلط ہے۔ وہ انھیں لڑائیتی دیوی کہتے ہیں (موٹے طور پر ترجمہ کرنے پر، اس کا مطلب ہے جھگڑالو انسان)، لیکن میرے لیے، پہلی نظر میں وہ ایک پر اعتماد مجاہد ہیں – جو اپنی طاقت سے پر امید ہیں – لیکن، اس سے بھی اہم بات، وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔
وہ مجھ سے کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہتی ہیں۔ میں ان سے ایک ساتھ بیٹھنے کے لیے کہتی ہوں تاکہ ہمیں گفتگو کرنے میں آسانی ہو۔ لہٰذا، وہ اپنے لیے ایک اور کرسی کھینچ لیتی ہیں۔ ہم ان کے دو کمرے والے گھر کے برآمدے میں ہیں۔
میں سلماتا گاؤں میں ہوں – اتراکھڈ کے اودھم سنگھ نگر کے ستارگنج بلاک میں۔ یہ تقریباً ۱۱۲ کنبوں کا ایک گاؤں ہے، جس کے زیادہ تر لوگ ریاست کے سب سے بڑے درج فہرست قبیلہ، تھارو کے ہیں – جو کہ ایک کہاوت کے مطابق، اپنی نسل راجپوت شاہی خاندان کو بتاتے ہیں۔ لڑائیتی، جو کہ ایک تھارو ہیں، سے میرا تعارف ایک ایسے شخص کے طور پر کرایا گیا، جن کی طرف دیگر مقامی خواتین دیکھتی ہیں۔ میں ان کی کہانی جاننے کے لیے بیتاب ہوں۔
وہ اپنی زندگی کی کہانی ۲۰۰۲ سے بتانا شروع کرتی ہیں۔ ’’میں کیا تھی – ایک عام عورت؟ پھر کچھ لوگ سامنے آئے اور ہمیں بتایا کہ ہمارا ایک گروپ بن سکتا ہے – جو ہمیں طاقت بخشے گا۔ ہم پیسہ بچا سکتے ہیں۔‘‘






