’’گیتا درد میں مبتلا تھی، اسے بخار محسوس ہو رہا تھا اور وہ بیہوش ہو رہی تھی۔ اگلے دن وہ بہت زیادہ الٹی کرنے لگی – میں گھبرا گیا،‘‘ ستیندر سنگھ کہتے ہیں۔
اگلے دن، اتوار، ۱۷ مئی تک، ستیندر سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کیا جائے۔ انہوں نے ایک خیراتی ٹرسٹ کے ساتھ کام کرنے والے ایمبولنس ڈرائیور کو فون کیا کہ وہ انہیں ٹاٹا میموریل اسپتال تک پہنچنے میں مدد کرے۔ وہ جیسے ہی وہاں پہنچے، گیتا کو کیژولٹی وارڈ میں لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا کووڈ-۱۹ ٹیسٹ کیا۔ پیر کو نتیجہ پازیٹو آیا۔
گیتا کو پیٹ کا کینسر ہے۔ تقریباً دو ہفتہ پہلے تک، وہ اور ستیندر وسطی ممبئی کے پریل علاقے میں واقع ٹاٹا اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر واپس چلے گئے تھے۔ اس سے کچھ ہفتہ پہلے تک، وہ اسپتال سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور، ڈومبی ولی میں ایک رشتہ دار کے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے، جس کا انتظام ان رشتہ داروں سے بہت منت سماجت کرنے، اور انہیں کھانے اور کرایے کا پیسہ چکانے کی یقین دہانی کرنے کے بعد ہو پایا تھا۔
۴۰ سالہ گیتا اور ۴۲ سالہ ستیندر سنگھ مہاراشٹر کے کولہا پور ضلع کے اچلکرنجی شہر سے نومبر میں ممبئی آئے تھے۔ ان کا ۱۶ سالہ بیٹا بادل اور ۱۲ سالہ بیٹی خوشی، اچلکرنجی میں ستیندر کے بڑے بھائی سریندر کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی قبل، یہ فیملی بہار کے روہتاس ضلع میں دینارہ بلاک کے کنیاری گاؤں سے مہاراشٹر آ گئی تھی۔ گیتا کے ساتھ ممبئی روانہ ہونے سے پہلے، ستیندر اچلکرنجی میں ایک پاورلوم فیکٹری میں کام کرتے تھے، جہاں انہیں ماہانہ ۷۰۰۰ روپے ملتے تھے۔
’’ہم نے اپنے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم جلد ہی لوٹ آئیں گے، لیکن اب ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا چہرہ کب دیکھیں گے،‘‘ گیتا نے مارچ میں مجھے بتایا تھا۔
نومبر میں جب وہ ممبئی آئے، تو ستیندر کے چچیرے بھائی کے ساتھ گورے گاؤں کے شمالی مضافات میں قیام کیا۔ لیکن کووڈ-۱۹ کے خوف سے، چچیرے بھائی نے درخواست کی کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ ’’ہم اسٹیشنوں پر اور [اس کے بعد] اس فٹ پاتھ پر رہتے تھے،‘‘ گیتا نے مجھے بتایا تھا جب میں ان سے ۲۰ مارچ کو ملا تھا۔ پھر وہ ڈومبی ولی چلے گئے۔ (دیکھیں لاک ڈاؤن میں ممبئی کے فٹ پاتھ پر پھنسے کینسر مریض)





