میری کتاب ’دی لاسٹ ہیروز‘ میں جن باحیات مجاہدین آزادی کا ذکر ہے، ان میں شاید سب سے عمر دراز ٹھیلو مہتو کا جمعرات، ۶ اپریل ۲۰۲۳ کی شام مغربی بنگال کے پرولیا ضلع میں واقع پرڑا گاؤں میں ان کے گھر پر انتقال ہو گیا۔ ان مجاہدین آزادی میں وہ اس دنیا کو خیرباد کہنے والے پہلے شخص ہیں، جو میری کتاب کے شائع ہونے کے وقت زندہ تھے۔ وہ اُن مظاہرین میں سے بھی آخری زندہ بچے شخص تھے، جنہوں نے ۱۹۴۲ میں پرولیا کے ۱۲ پولیس تھانوں پر احتجاجی مارچ کیا تھا – حالانکہ اب اس تاریخی واقعہ کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ موت کے وقت ٹھیلو کی عمر ۱۰۳ سے ۱۰۵ سال کے درمیان رہی ہوگی۔
ان کے انتقال سے، ہم اپنی اُس سنہری نسل کو کھونے کے اور قریب پہنچ گئے، جنہوں نے ہماری آزادی کی لڑائی لڑی اور ہندوستان کو ایک آزاد ملک بنانے میں مدد کی۔ اگلے پانچ یا چھ سالوں میں ایسا ایک بھی آدمی زندہ نہیں بچے گا، جنہوں نے اس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی ہے۔ اس کے بعد ہندوستانیوں کی نئی نسلوں کو نہ تو کبھی ایسے مجاہدین آزادی کو دیکھنے کا موقع مل پائے گا اور نہ ہی ان سے بات کرنے یا ان کی کہانیاں سننے کا۔ تب انہیں براہ راست یہ بتانے والا کوئی نہیں ہوگا کہ وہ [مجاہدین آزادی] کون تھے، ان کی لڑائی کیا تھی – اور انہوں نے آزادی کی لڑائی کیوں لڑی۔
اور ٹھیلو مہتو اور ان کے تاحیات کامریڈ (ساتھی) لوکھی مہتو اپنی کہانیاں سنانے کے لیے کافی بیتاب تھے۔ اس لیے بیتاب تھے کہ نئی نسلوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ وہ کیسے اپنے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے لڑے اور ایسا کرنے پر انہیں کتنا فخر تھا۔ ٹھیلو اپنی یہ کہانی سنانے کے لیے اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اور اگلے پانچ یا چھ سالوں میں ان کی نسل کا کوئی دوسرا بھی اپنی کہانی سنانے کے لیے زندہ نہیں بچے گا۔
ملک کے مستقبل، یعنی نئی نسل کے ہندوستانیوں کا یہ کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ وہ تو چھوڑ دیجئے، خود آج کی نسلوں کا یہ کتنا بڑا نقصان ہے کہ وہ ہمارے دور کے ٹھیلو اور ان کی قربانیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اور یہ بھی نہیں جانتے کہ ملک کو بنانے والے آزادی کے ایسے سپاہیوں کی کہانی بیان کرنا کیوں ضروری ہے۔
خاص کر ایک ایسے دور میں جہاں ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر لکھا جا رہا ہے، نئی کہانیاں ایجاد کی جا رہی ہیں اور اسے لوگوں پر زبردستی تھوپا جا رہا ہے۔ عوامی گفتگو میں، میڈیا کے ایک بڑے حصے کے ذریعے پیش کیے جانے والے مواد میں، اور اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ ہمارے اسکول کی نصابی کتابوں میں موہن داس کرم چند گاندھی کے قتل سے متعلق اہم سچائیوں کو لگاتار مٹایا جا رہا ہے۔






