جنوری کے آخر میں جب بھینس کا دو مہینے کا بچھڑا مر گیا، تو ساریکا ساونت فکرمند ہو اٹھیں۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ مکئی میں ایک بڑا کیڑا تھا۔ بچھڑے نے اسے نگل لیا ہوگا... اس لیے کل سے بھینس دودھ نہیں دے رہی ہے،‘‘ انھوں نے کہا، جب ہم مہسوڈ ٹاؤن کے مویشی کیمپ میں ان سے ملے تھے۔
اس نقصان سے پہلے، ساریکا اور ان کے شوہر انل ساونت کو پچھلے سال دیوالی کے آس پاس اپنی دو گائیں بیچنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ فیملی میں اب چار جرسی گائے، تین بھینسیں اور دو بچھڑے ہیں۔ دودھ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن، ساریکا کہتی ہیں، ’’دو سال سے بارش نہیں ہوئی ہے۔ گاؤں کے کنویں خشک ہوجانے کے بعد ہم دیوالی [اکتوبر-نومبر ۲۰۱۸] سے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ کوئی چارہ نہیں ہے، ہری گھاس نہیں ہے، ہم اپنے مویشیوں کو کیسے کھلائیں؟ اور قرض بڑھ رہا تھا...‘‘
سوکھے کا بوجھ اٹھانے میں ناکام، ۲۴ سالہ ساریکا اور ۳۲ سالہ انل، جو مراٹھا برادری سے ہیں، حولدارواڑی سے تقریباً ۱۵ کلومیٹر دور، مہسوڈ کے مویشی کیمپ چلے گئے ہیں۔ ان کا ۹۹۴ لوگوں کا گاؤں مہاراشٹر کے ستارا ضلع کے مان بلاک میں ہے۔
۳۱ اکتوبر، ۲۰۱۸ کو، مہاراشٹر کے ۲۶ ضلعوں کے ۱۵۱ بلاکوں میں سوکھے کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں سے ۱۱۲ بلاکوں میں شدید خشک سالی ہے۔ ماندیش علاقے کے سبھی بلاک اس فہرست میں ہیں – ستارا ضلع کا مان اور کھٹاو تعلقہ، سانگلی کا جت، آٹپاڈی اور کوٹھے مہانکال تعلقہ اور شعلہ پور کا سانگولا اور مالشیرس۔ ماندیشی فاؤنڈیشن کے ذریعہ قائم کردہ مویشی کیمپ میں، اب ماندیش کے ۶۴ گاؤوں کے ۲۵۰۰ لوگوں کے ساتھ ساتھ ۸۰۰۰ سے زیادہ مویشی رہتے ہیں۔ (دیکھیں چارے کی تلاش میں بچھڑے کنبے اور چِمنا بائی کو آخرکار ۸۰۰۰ دیگر کے ساتھ، چارہ مل گیا)








