رادھا بائی اور چمنا بائی کی طرح کاجل بھی دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کر رہی ہے۔ ستارا کا مہسوڈ کیمپ دوپہر کے وقت بھی ٹھنڈا ہے۔ لیکن بدام بے چین ہے اور گزشتہ دو دنوں سے ٹھیک سے کھانا نہیں کھا رہا ہے۔

ان چاروں کو کیمپ میں آئے تقریباً ۲۰ دن ہو چکے ہیں۔ وہ تقریباً ۱۶ کلومیٹر دور، ستارا ضلع کے اپنے گاؤں، ولئی سے پیدل یہاں پہنچیں۔ چارے کی شدید کمی ان کے لیے خاص طور سے سنگین مسئلہ تھا – یہ ان کی غذائیت کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اس لیے، لکشمی کالیل (۴۰) اور ان کے شوہر پرمیشور انا کالیل (۶۰)، اپنی دو بھینسوں- رادھا اور چمنا، ایک گائے- کاجل اور ایک بیل- بدام کے ساتھ مہسوڈ کیمپ میں آ گئے۔ ’’انھیں یہاں تک گاڑی سے لانے میں ۸۰۰-۱۰۰۰ روپے کا خرچ آتا ہے، ہم یہ رقم برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہم نے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا،‘‘ کیمپ کے ڈپو سے اپنے مویشیوں کے لیے گنّے کا ڈنٹھل لاتے ہوئے، لکشمی کہتی ہیں۔

پلاسٹک کے ٹینٹ میں بیٹھی وہ بتاتی ہیں کہ پرمیشور انھیں اور ان کے مویشیوں کو کیمپ میں چھوڑنے کے بعد گھر واپس چلے گئے تھے۔ ’’مجھے تین رات یہاں کھلے آسمان کے نیچے سونا پڑا۔ پھر، اپنے بھتیجہ اور نئے ’پڑوسیوں‘ کی مدد سے، میں نے ٹینٹ اور اپنے چار مویشیوں کے لیے ایک جھونپڑی بنائی۔‘‘ اس طرح کی مدد کے لیے، لکشمی اپنے پڑوسیوں کو دوپہر کا کھانا یا چائے پیش کرتی ہیں۔

Top Left- Lakshmi filling water for her cattle from a drum next to her tent
Top Right - Lakhshmi making her cow drink water
Bottom Left - Lakshmi pouring water on the cow, presumably to cool it down
Bottom Right - Lakshmi sweeping dung into a pile to keep the area clean
PHOTO • Binaifer Bharucha

مویشی کیمپ میں، لکشمی اپنے مویشیوں کے لیے دن میں ۳-۴ بار پانی کا برتن بھرتی ہیں، چارے کے لیے ڈنٹھل کاٹتی ہیں، گوبر جمع کرتی ہیں – یہ اور دیگر متعدد کاموں سے بھرا یہ ایک لمبا دن ہوتا ہے

کیمپ میں آنے کے بعد، ان کی دو کالی بھینسیں-  پانچ سال کی رادھا اور تین سال کی چمنا، تین سال کی بھوری سفید گائے- کاجل، اور ان کا واحد بیل-  پانچ سال کا بھورا سفید بدام تھوڑا خوش لگ رہے ہیں۔ ’’مویشیوں کو چارہ مل رہا ہے اور وہ تناؤ سے راحت محسوس کر رہے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

’’میں یہاں آنے کے دن سے ہی اکیلی ہوں۔ میرے شوہر نے جب ہمیں یہاں چھوڑا تھا، تب سے تین ہفتے گزر چکے ہیں...‘‘ لکشمی کہتی ہیں (جب میں جنوری کے آخر میں ان سے ملی تھی)۔ ’’میرے دو بیٹے ہیں، ایک پونہ میں ڈیئری میں کام کرتا ہے اور دوسرا ہماری بھیڑوں کو چرانے کراڈ گیا ہوا ہے۔ اس کی بیوی اور ایک بچہ [ان کا پوتا، ۱۸ مہینے کا اجنکیا] گھر پر ہیں۔ ہمارا گھر ایک دور دراز کے پہاڑی علاقے میں ہے اور اب قحط کی وجہ سے چوری زیادہ ہونے لگی ہے۔ اسی لیے میرے شوہر گاؤں واپس چلے گئے اور ہمیں کیمپ میں چھوڑ دیا،‘‘ لکشمی بتاتی ہیں۔

۳۱ اکتوبر، ۲۰۱۸ کو مہاراشٹر کے ۲۶ ضلعوں کے ۱۵۱ بلاکوں میں قحط کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں سے ۱۱۲ بلاکوں کو شدید قحط کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماندیش کے سبھی بلاک اس فہرست میں شامل ہیں – ستارا ضلع کے مان اور کھٹاؤ تعلقہ کو ماندیش کے طور پر جانا جاتا ہے، جیسے کہ سانگلی میں جت، آتپاڈی اور کَوٹھے مہانکال تعلقہ اور شعلہ پور میں سانگولے اور مالشیرس۔ ماندیش کے ۷۰ گاؤوں کے تقریباً ۱۶۰۰ لوگ، تقریباً ۸۰۰۰ مویشیوں کے ساتھ، مہسوڈ کے مویشی کیمپ میں رہ رہے ہیں۔ (دیکھیں چارہ کی کھوج میں بچھڑے کنبے)

Lakshmi’s cattle
PHOTO • Binaifer Bharucha
Lakshmi’s cattle
PHOTO • Binaifer Bharucha

کیمپ میں آنے کے بعد، ’مویشیوں کو چارہ مل رہا ہے اور وہ تناؤ سے راحت محسوس کر رہے ہیں‘، لکشمی کہتی ہیں

یہ کیمپ یکم جنوری ۲۰۱۹ کو ماندیش فاؤنڈیشن کے ذریعہ شروع کیا گیا تھا، جو کہ مہسوڈ میں واقع ہے اور مالیات سے پرے جانے والے ایشوز پر کام کرکے ماندیش مہیلا سہکاری بینک کی مدد کرتا ہے۔ موجودہ (اور بڑھتے ہوئے) قحط کا سامنا کرنے والے گاؤوں کے لیے یہ اس پیمانے کا سب سے پہلا مویشی کیمپ ہے۔ کیمپ کے منتظم چارہ اور پانی مہیا کرتے ہیں (بڑے جانوروں کو ۱۵ کلو سبز چارہ، ایک کلو مویشی چارہ اور ۵۰ لیٹر پانی روزانہ ملتا ہے)۔ مویشی مالکوں نے فاؤنڈیشن کے ذریعہ فراہم کیے گئے لکڑی کے ستونوں اور سبز رنگ کے جال سے مویشیوں کے رہنے کے لیے جھونپڑیاں بنائی ہیں۔ ’’بیمار جانوروں کو انفیکشن سے بچنے کے لیے کیمپ سے باہر منتقل کر دیا جاتا ہے، اور جانوروں کے دو ڈاکٹر طبی مدد فراہم کرتے ہیں،‘‘ کیمپ کے بنیادی معاونین میں سے ایک، رویندر ویرکر کہتے ہیں۔ منتظمین کی طرف سے لوگوں کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ہر ’وارڈ‘ میں پانی کے بیرل رکھے جاتے ہیں (ایک ٹینکر ہر دوسرے یا تیسرے دن پانی لاتا ہے)، اور پینے کے پانی کے لیے ایک ٹینک ہے۔

لکشمی کا ٹینٹ ان کے سونے کے لیے کافی بڑا ہے۔ ایک افقی ستون سے بندھی رسی پر، ان کی دو ساڑیاں ہیں اور اسی رسی پر ایک پلاسٹک کی تھیلی لٹک رہی ہے جس میں چائے کی پتی اور چینی، ایک ماچس کا ڈبہ اور مسور کی دال جیسی کچھ غذائی اجناس ہیں۔ انھوں نے تین پتھروں کو جوڑ کر ایک چولہا بنایا ہے اور چولہے کے ٹھیک بغل میں کچھ ایندھنی لکڑی اور چارہ جمع کیا ہے۔ یہ چائے بنانے یا کھانا گرم کرنے کے لیے کافی ہے۔ ’’میرا کھانا گھر سے آتا ہے...‘‘ لکشمی کہتی ہیں۔ لیکن جب ہم ان سے ملے، تو وہ دو دنوں سے گھر کے کھانے کا انتظار کر رہی تھیں، اور اپنے بھتیجہ کے ٹفن سے کھانا شیئر کر رہی تھیں۔ ’’اگر وہ آج نہیں بھیجتے ہیں، تو مجھے خود گھر جا کر واپس آنا ہوگا۔ کچھ دنوں پہلے میری بہو نے کچھ بھاکری پیک کرکے بھیجی تھی، لیکن کوئی سبزی، کوئی دال  نہیں تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے مویشیوں کی طرح، مجھے بھی چارہ کھانا پڑے گا۔ میرا نام لکشمی ہے [دولت کی دیوی] لیکن میری قسمت دیکھیں...‘‘

ستارا ضلع کے مان تعلقہ میں لکشمی کے گاؤں، ولئی میں ۳۸۲ گھر ہیں اور آبادی تقریباً ۱۷۰۰ ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)۔ ’’گاؤں کے آدھے لوگ کولہاپور اور سانگلی ضلعوں میں چینی ملوں میں گنّا کاٹنے کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ یہ لوگ دیوالی [اکتوبر/نومبر] کے بعد جاتے ہیں اور پڈوا کے آس پاس لوٹتے ہیں [مارچ/اپریل کے آس پاس ہندو چاند کیلنڈر کے پہلے دن]۔ لیکن اس سال کوئی بھی جئیشٹھ [مئی/جون کے آس پاس چاند کیلنڈر کا چوتھا مہینہ] تک نہیں آئے گا،‘‘ مان تعلقہ کے پان وَن گاؤں کے ۷۰ سالہ یشونت دھونڈیبا شندے کہتے ہیں، جو کسانوں کی کئی تحریکوں میں شریک ہو چکے ہیں، وہ اپنی چار گایوں کو کیمپ میں لے کر آئے ہیں۔

Lakshmi in her tent putting on a bindi/sindoor
PHOTO • Binaifer Bharucha
Lakshmi outside her tent with the drum of drinking water for cattle in the foreground.
PHOTO • Binaifer Bharucha

لکشمی کا نیا گھر یہ ٹینٹ ہے، جس میں کچھ سامان اور کچھ غذائی اجناس ہیں؛ یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے مویشیوں کے قریب ہفتوں سے اکیلی رہ رہی ہیں

ہم سے بات کرتے ہوئے لکشمی کہتی ہیں کہ پینے کا پانی ختم ہو چکا ہے؛ وہ کیمپ میں رکھی ٹنکی سے پانی لاتی ہیں اور پلاسٹک کے ایک سفید ڈبہ میں جمع کر لیتی ہیں۔ دریں اثنا، شندے اپنے ایک دوست سے ان کے لیے چار لیٹر پانی کا ایک ڈبہ چھوڑنے کے لیے کہتے ہیں۔ بدلے میں وہ ان کے لیے کالی چائے بناتی ہیں اور اسٹیل کی طشتری میں پیش کرتی ہیں۔ بحران کی اس گھڑی میں یہ ہم آہنگی ان سبھی کی مدد کرتی ہے۔

لکشمی لوناری ذات (مہاراشٹر میں او بی سی کے طور پر فہرست بند) کی ہیں۔ روایتی طور پر، یہ ذات نمک (نمک کو یہاں لون کہا جاتا ہے) اور لکڑی کا کوئلہ بناتی تھی۔ نمک ماندیش کے کچھ حصوں میں کھاری مٹی سے نکالا جاتا تھا۔ ولئی میں اور اس کے ارد گرد، اس ذات کے کنبے مویشی بھی پالتے ہیں لیکن دودھ نہیں بیچتے۔ ’’دودھ بچھڑے اور ہمارے گھریلو استعمال کے لیے ہے۔ ہم دودھ سے پیسے نہیں بناتے ہیں۔ اس لیے بہت سے لوگ حاملہ گائے یا بھینس بیچتے ہیں [جس سے زیادہ پیسہ ملتا ہے] اور نئی خریدتے ہیں،‘‘ لکشمی بتاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی فیملی ایسا نہیں کرتی ہے، اور بتاتی ہیں کہ کاجل اگلے ۱۰ دنوں میں بچھڑے کو جنم دینے والی ہے۔

میں ان سے مویشیوں کے نام کے بارے میں پوچھتی ہوں۔ ’’ہم صرف دیسی کھلّار گائے یا بیل یا بھینس کا نام رکھتے ہیں۔ جرسی گایوں کا کبھی نام نہیں رکھا جاتا،‘‘ وہ جواب دیتی ہیں۔ ’’میرے بیٹے نے اپنی سبھی بکریوں کا نام رکھا ہے اور جب وہ ان کے نام پکارتا ہے تو وہ اس کا جواب دیتی ہیں۔‘‘

Lakshmi walking back at a brisk pace to her tent after filling water for her own use
PHOTO • Binaifer Bharucha
Lakshmi and her husband Paramaeshwar sitting outside her tent
PHOTO • Binaifer Bharucha

بائیں: اپنے لیے پینے کا پانی جمع کرنے میں انھیں لمبا چلنا پڑتا ہے۔ دائیں: اپنے شوہر پرمیشور کے ساتھ؛ وہ تین ہفتے کے بعد سامان اور بھجیا لے کر آئے تھے

ولئی میں لکشمی کی فیملی کے پاس ۱۰ ایکڑ سوکھی زمین ہے، جس پر وہ عام طور سے جوار، باجرا، مکئی اور پیاز کی کھیتی کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک کنواں بھی ہے، لیکن یہ ۲۰۱۸ کی گرمیوں میں سوکھ گیا۔ دو سال تک لگاتار قحط کا مطلب ہے کہ ان کے پاس جوار کی فصل نہیں تھی، باجرا کی پیداوار کم ہوئی، اور ۲۰۱۸ میں کم تر معیار والے پیاز تھے۔ ’’ہمارے پاس ۲-۳ ایکڑ سے زیادہ زمین نہیں تھی۔ میری ساس نے بھیڑ بکریاں بیچ کر یہ زمین خریدی تھی... اسی طرح انھوں نے ۷ ایکڑ زمین خریدی،‘‘ لکشمی بتاتی ہیں، جو اپنے ٹینٹ سے ۵۰۰ میٹر دور پانی کی ٹنکی سے ۱۵ لیٹر کا گھڑا بھر رہی ہیں۔ اس کے لیے وہ دن میں ۳-۴ چکر لگاتی ہیں۔ ’’مویشیوں کو ہمارے دروازے پر پانی مل جاتا ہے، لیکن ہم یہ سہولت کیسے حاصل کریں گے؟‘‘ وہ ہنستی ہیں۔

جنوری کے آخر میں، تین ہفتے کے بعد، لکشمی کے شوہر، پرمیشور کچھ تازہ میتھی، بینگن، مرچ اور دیگر سبزیوں اور چائے پاؤڈر، چینی، پکے ہوئے گیہوں کے چوڑا، اور مہسوڈ کے ہفتہ واری بازار میں فروخت ہونے والی مقبول تلی ہوئی پیاز بھجیا کے ساتھ تقریباً ڈھائی بجے دن میں کیمپ پہنچے۔ کچھ اسنیکس ان کے پوتے کے لیے ہیں۔ لکشمی اس میں سے کچھ اپنے لیے رکھ لیتی ہیں اور باقی سامان بیگ میں واپس پیک کر دیتی ہیں، جو ان کے شوہر ولئی میں واقع اپنے گھر لے جائیں گے۔

وہ گاجر کے سر والے حصہ کو بھی ایک اخبار میں احتیاط سے پیک کر دیتی ہیں، باقی کے کٹے ہوئے آدھے گاجر کو وہ اپنے لیے رکھ لیتی ہیں اور آدھا پرمیشور کو گھر لے جانے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بہو گاجر کے ان کٹے ہوئے سروں کو گھر پر بو دے۔ ’’یہ باورچی خانہ سے نکلنے والے گندے پانی میں بھی اُگ جاتے ہیں۔ میری رادھا اور چمنا کو کھانے کے لیے کچھ ہری پتیاں مل جائیں گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اور اگر اس دفعہ بارش ہوئی، تو ہماری فصلیں اگیں گی اور ہمیں بھی کچھ کھانے کو ملے گا۔‘‘

تب تک لکشمی کہتی ہیں، ’’مجھے کیمپ کی عادت ہوگئی ہے، اپنے ارد گرد مویشیوں کی وجہ سے لگتا ہے کہ میں اپنے گھر پر ہی ہوں۔ یہ تقریباً ویسا ہی ہے جیسے میں چھوٹے بچوں سے گھری ہوئی ہوں اور وقت یونہی گزرتا چلا جا رہا ہے...‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Medha Kale

میدھا کالے پونہ میں مقیم ہیں اور عورتوں اور صحت کے شعبے میں کام کر چکی ہیں۔ وہ پاری (PARI) کے لیے ترجمہ بھی کرتی ہیں۔

Other stories by Medha Kale