یہ جادو کے کسی انوکھے کھیل کی طرح ہے۔ ڈی فاطمہ اپنی دکان کے پچھلے حصے میں رکھے گئے ایک نیلے ڈبے کو کھول کر اس میں سے ایک ایک کر کے اپنا خزانہ نکالتی ہیں۔ اس میں رکھی ہوئی سبھی مچھلیاں کسی آرٹ جیسی نظر آتی ہیں – بڑی اور وزنی مچھلیاں، جو کبھی توتوکوڈی سے دور گہرے سمندر میں تیرتی ہوں گی، لیکن جنہیں اب ہنرمند ہاتھوں، نمک اور کڑی دھوپ کی مدد سے سُکھا کر محفوظ کر لیا گیا ہے۔
فاطمہ (۶۴ سالہ) ایک کٹّ پارئی مین (رانی مچھلی) اٹھاتی ہیں اور انہیں اپنے چہرے کے قریب لاتی ہیں۔ مچھلی کی لمبائی ان کے ان کے خود کے قد سے آدھی ہے اور اس کی گردن ان کے ہاتھوں کے برابر چوڑی ہے۔ مچھلی کے منھ سے لے کر اس کی پونچھ تک کاٹے جانے کا گہرا نشان ہے، جہاں سے انہوں نے نمک بھرنے سے پہلے ایک دھار دار چاقو کی مدد سے گوشت کو چیر کر اندر کی سبھی آنتیں اور دوسرے اندرونی حصے نکال دیے ہیں۔ نمک بھری ہوئی ایک کٹّ پارئی کو اتنی سخت دھوپ میں سوکھنے کے لیے ڈالا گیا ہے، جو کسی بھی چیز کو خشک کر دینے کا مادّہ رکھتی ہے – چاہے وہ مچھلی ہو، زمین ہو یا پھر جیتا جاگتا آدمی ہو…
ان کے چہرے اور ہتھیلیوں کی لکیریں اس مشکل کہانی کو بیان کرتی ہیں۔ یہ کسی اور دور کی کہان ہے – اُس دور کی جب ان کی آچی (دادی) مچھلیوں میں نمک لگانے اور انہیں بیچنے کا کام کرتی تھیں۔ وہ شہر بھی کوئی اور تھا اور وہ راستے بھی کوئی اور تھے۔ تب سڑک کے بغل سے بہنے والی نہر چند فٹ ہی چوڑی ہوا کرتی تھی۔ اس نہر کے ٹھیک بغل میں ان کا پرانا گھر تھا۔ لیکن ۲۰۰۴ میں آئی سونامی نے ان کے اور آس پاس کے سبھی گھروں کو نیست و نابود کر دیا۔ حالانکہ، ان سے نئے گھر کا وعدہ کیا گیا، لیکن ایک مشکل تھی۔ نیا گھر ’’رومبھ دورم [بہت دور]‘‘ تھا۔ فاصلہ کو انداز سے بتانے کے لیے وہ اپنے سر کو ایک طرف جھکاتی ہوئی اشارتاً اپنا ایک ہاتھ اوپر اٹھاتی ہیں۔ بس سے انہیں تقریباً آدھا گھنٹہ کا وقت لگتا تھا، اور انہیں مچھلی خریدنے کے لیے ویسے بھی سمندری ساحل پر آنا ہی پڑتا تھا۔
نو سال بعد فاطمہ اور ان کی بہنیں اپنے پرانے محلے تیریسپورم پھر سے لوٹ آئیں، جو توتوکوڈی شہر کا باہری علاقہ ہے۔ ان کا گھر اور دکان – دونوں اس نہر کے بغل میں ہیں جسے اب چوڑا کر دیا گیا ہے، جس کا پانی اب بہت دھیمی رفتار میں بہتا ہے۔ دوپہر کافی خاموش اور پرسکون ہے – اتنی ہی خاموش اور پرسکون جتنی یہ سوکھی ہوئی مچھلیاں ہیں۔ ان عورتوں کی نمک اور دھوپ میں ڈوبی ہوئی زندگی انھیں پر منحصر ہے۔
شادی سے پہلے فاطمہ اپنی دادی کے مچھلی کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتی تھیں۔ تقریباً بیس سال پہلے اپنے شوہر کی موت کے بعد وہ اس کاروبار میں دوبارہ لوٹ آئیں۔ فاطمہ کو وہ منظر یاد ہے جب صرف آٹھ سال کی عمر میں وہ جال سے ساحل پر اتاری گئی مچھلیوں کے انبار دیکھا کرتی تھیں۔ وہ مچھلیاں اتنی تازہ ہوا کرتی تھیں کہ پانی سے نکالے جانے کے بعد بھی ان کے اندر دیر تک جان باقی رہتی تھی، جس کی وجہ سے وہ دیر تک تڑپتی رہتی تھیں۔ تقریباً ۵۶ سال بعد اب ان کی جگہ ’’آئس مین (مچھلی)‘‘ نے لے لی ہے، وہ بتاتی ہیں۔ اب کشتیاں برف لاد کر سمندر میں جاتی ہیں اور واپسی میں اسی برف میں پیک مچھلیوں کے ساتھ ساحل پر لوٹ آتی ہیں۔ بڑی مچھلیوں کی فروخت لاکھوں روپے میں ہوتی ہے۔ ’’اُس زمانے میں، ہم آنے اور پیسے میں کاروبار کرتے تھے۔ سو روپے بڑی رقم ہوا کرتی تھی، اب ہزاروں اور لاکھوں میں یہ کاروبار ہوتا ہے۔‘‘



























