مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقہ میں کئی مہینوں کی ناقابل برداشت گرمی کے بعد آخرکار ٹھنڈ پڑنے لگی تھی۔ دامنی (تبدیل شدہ نام) رات کی اپنی شفٹ کے لیے تیار ہوتے ہوئے سردی کی اس راحت کا لطف لے رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں پی ایس او [پولیس اسٹیشن آفیسر] ڈیوٹی پر تھی اور ہتھیار اور واکی ٹاکی جاری کرنے کی ذمہ داری میری ہی تھی۔‘‘
ایک بار کام کے دوران اسٹیشن ہاؤس آفیسر یعنی پولیس انسپکٹر (ایس ایچ او/پی آئی) نے ان سے کہا کہ وہ پولیس اسٹیشن سے ان کے واکی ٹاکی کے لیے چارج کی ہوئی بیٹریاں اسٹیشن کے احاطہ میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ پر لے کر آئیں۔ آدھی رات کے بعد کا وقت تھا، اور اس قسم کے کاموں کے لیے انہیں اپنے گھر پر بلانا – جو کہ پروٹوکول کے خلاف ہے – عام بات تھی۔ دامنی بتاتی ہیں، ’’آفیسرز اکثر آلات اپنے گھر لے جاتے ہیں…اور ہمیں اپنے سینئر افسروں کے حکم کی تعمیل کرنی ہوتی ہے۔‘‘
رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے دامنی اُس پولیس انسپکٹر کے گھر گئیں۔
تین آدمی اندر بیٹھے ہوئے تھے: پولیس انسپکٹر، ایک سماجی کارکن اور تھانے کا ایک ملازم (پولیس اسٹیشن کے ذریعہ چھوٹے موٹے سرکاری کاموں کے لیے تعینات شہری رضاکار)۔ ’’میں نے انہیں نظر انداز کیا اور کمرے میں میز کی طرف مڑ گئی، تاکہ واکی ٹاکی کی بیٹریاں تبدیل کر سکوں،‘‘ وہ اس رات کو یاد کرتے ہوئے بے چینی کے عالم میں کہتی ہیں۔ یہ نومبر ۲۰۱۷ کی بات ہے۔ جب وہ پیچھے مڑیں، تو اچانک انہوں نے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی۔ ’’میں کمرے سے نکلنا چاہتی تھی۔ میں نے اپنی پوری طاقت لگائی، لیکن دو مردوں نے میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا، مجھے بستر پر پھینک دیا، اور…ایک ایک کر کے انہوں نے میری عصمت دری کی۔‘‘
تقریباً ڈھائی بجے، آنسوؤں سے بھری دامنی گھر سے باہر نکلیں، اپنی بائک پر بیٹھیں اور گھر کی طرف چل پڑیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرا دماغ سُنّ تھا۔ میں اپنے کریئر اور جو میں حاصل کرنا چاہتی تھی، اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ اور، اب یہ؟‘‘







