’’سال ۲۰۲۰ میں لاک ڈاؤن کے دوران، کچھ لوگ ۲۰ء۱ ایکڑ زمین کی باؤنڈری بنانے کے لیے آئے تھے،‘‘ ۳۰ سالہ پھگوا اوراؤں کہتے ہیں، وہ ایک کھلی زمین کے چاروں طرف کھڑی ایک اینٹ کی دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہم کھونٹی ضلع کے ڈوماری گاؤں میں ہیں، جہاں بڑے پیمانہ پر اوراؤں آدیواسی برادریاں رہتی ہیں۔ ’’انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کی پیمائش شروع کر دی کہ یہ زمین کسی اور کی ہے، آپ کی نہیں ہے۔ ہم نے اس کی مخالفت کی۔
’’اس واقعہ کے تقریباً ۱۵ دن بعد، ہم گاؤں سے ۳۰ کلومیٹر دور کھونٹی میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے پاس گئے۔ ہر بار کے سفر پر ہمیں ۲۰۰ روپے سے زیادہ کا خرچ آتا ہے۔ ہمیں وہاں ایک وکیل کی مدد لینی پڑی۔ وہ آدمی ہم سے ۲۵۰۰ روپے لے چکا ہے۔ لیکن کچھ نہیں ہوا۔
’’اس سے پہلے، ہم اپنے بلاک کے ژونل آفس گئے تھے۔ ہم اس کی شکایت کرنے پولیس اسٹیشن بھی گئے۔ ہمیں زمین پر اپنا دعویٰ چھوڑنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ کرّا بلاک کے ایک سخت گیر دایاں محاذ کے رکن، جو کھونٹی کے ضلع صدر بھی ہیں، نے ہمیں دھمکی دی تھی۔ لیکن کورٹ میں کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ اب یہ دیوار ہماری زمین پر کھڑی ہے۔ اور ہم دو سال سے اسی طرح دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔
’’میرے دادا لوسا اوراؤں نے ۱۹۳۰ میں زمیندار بال چند ساہو سے زمین خریدی تھی۔ ہم اسی زمین پر کھیتی کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس زمین کے لیے ۱۹۳۰ سے ۲۰۱۵ تک کی رسید ہے۔ اس کے بعد [۲۰۱۶ میں] آن لائن سسٹم شروع کیا گیا تھا اور آن لائن ریکارڈ میں ہماری زمین کا ٹکڑا [سابق] زمیندار کے جانشینوں کے نام پر ہے، ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ یہ کیسے ہوا۔‘‘
پھگوا اوراؤں نے مرکزی حکومت کے ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام (ڈی آئی ایل آر ایم پی) کی وجہ سے اپنی زمین کھو دی ہے، جو ملک میں تمام زمینی ریکارڈوں کو ڈیجیٹل بنانے اور ان کے لیے مرکز کے زیر انتظام ڈیٹا بیس تیار کرنے والی ایک ملک گیر مہم ہے۔ ایسے تمام ریکارڈز کو جدید بنانے کے مقصد سے ریاستی حکومت نے جنوری ۲۰۱۶ میں ایک زمینی بینک پورٹل کا افتتاح کیا، جس میں زمین کے بارے میں ضلع وار معلومات درج کی گئیں۔ اس کا مقصد ’’زمین/جائیداد سے متعلق تنازعات کے دائرے کو کم کرنا اور زمینی ریکارڈ کے رکھ رکھاؤ کے نظام میں شفافیت پیدا کرنا تھا۔‘‘
المیہ یہ ہے کہ اس نے پھگوا اور اس کے جیسے دیگر کئی لوگوں کے لیے بالکل برعکس کام کیا ہے۔
ہم آن لائن زمین کی حالت کا پتہ لگانے کے لیے پرگیا کیندر [مرکزی حکومت کی ڈیجیٹل انڈیا اسکیم کے تحت بنائی گئی جھارکھنڈ میں عوامی سروس سنٹرز کے لیے ایک وَن اسٹاپ شاپ، جو گرام پنچایت میں فیس کے عوض عوامی خدمات فراہم کرتی ہے] گئے۔ وہاں کے آن لائن ریکارڈ کے مطابق، ناگیندر سنگھ زمین کے موجودہ مالک ہیں۔ ان سے پہلے سنجے سنگھ مالک تھے۔ اس نے زمین بندو دیوی کو فروخت کر دی، جس نے بعد میں اسے ناگیندر سنگھ کو فروخت کر دیا۔
’’ایسا لگتا ہے کہ زمینداروں کے جانشین ہماری اطلاع کے بغیر ایک ہی زمین کو دو سے تین بار خریدتے اور بیچتے رہے۔‘‘ لیکن یہ کیسے ممکن ہے، جب ہمارے پاس ۱۹۳۰ سے ۲۰۱۵ تک کی زمین کی آف لائن رسیدیں ہیں؟ ہم اب تک ۲۰ ہزار روپے سے زیادہ خرچ کر چکے ہیں اور ابھی بھی ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ پیسے کا انتظام کرنے کے لیے ہمیں گھر کا اناج بیچنا پڑا۔ ’’اب جب زمین پر کھڑی دیوار دیکھتا ہوں، تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس لڑائی میں کون ہماری مدد کر سکتا ہے۔‘‘







