مینا کی کسی بھی وقت شادی ہو جائے گی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہے، ’’کچھ مہینے پہلے میں سب کے لیے مسئلہ بن گئی۔‘‘ اس کے کچھ ہفتوں بعد مینا کی چچیری بہن بھی سب کے لیے ’’پریشانی‘‘ کا سبب بن گئی، اب اس کی بھی شادی طے کی جا رہی ہے۔ یہاں کوئی لڑکی تب جاکر ’’پریشانی‘‘یا ’’مسئلہ‘‘ کی جڑ بنتی ہے، جب اسے حیض شروع ہو جاتا ہے۔
مینا (عمر ۱۴ سال) اور سونو (عمر ۱۳ سال) ایک چارپائی پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ جب وہ بات کرتی ہیں، تو کبھی ایک دوسرے کو دیکھتی ہیں، کبھی مینا کے گھر کے مٹی کے فرش کو؛ ایک اجنبی سے حیض کے بارے میں بات کرنے میں ان کی جھجک صاف طور پر جھلکتی ہے۔ کمرے میں ان کے پیچھے ایک بکری زمین پر لگے کھونٹے سے بندھی ہے۔ اتر پردیش کے کوراؤں بلاک کی بیٹھکوا بستی میں جنگلی جانوروں کے ڈر سے اسے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔ وہ لوگ اسی خوف سے اپنے چھوٹے سے گھر کے اندر ہی اسے بھی رکھتے ہیں۔
ان لڑکیوں کو حیض کے بارے میں ابھی ابھی پتہ چلا ہے، جسے وہ شرمندگی سے جڑی کوئی چیز سمجھتی ہیں۔ اور اس سے وابستہ خوف کو انہوں نے اپنے ماں باپ سے سیکھا ہے۔ ایک بار لڑکی کے ’سیانی‘ ہو جانے کے بعد اس کی حفاظت اور شادی سے پہلے حاملہ ہونے کے خوف سے، پریاگ راج (جو پہلے الہ آباد کے نام سے جانا جاتا تھا) کی اس بستی کے لوگ اپنی بچیوں کی شادی بہت چھوٹی عمر (یہاں تک کہ محض ۱۲ سال کی عمر میں بھی) میں طے کر دیتے ہیں۔
مینا کی ماں رانی (عمر ۲۷ سال)، جن کی خود کی شادی چھوٹی عمر میں ہوئی تھی اور وہ ۱۵ سال کی عمر میں ماں بن گئی تھیں، سوال پوچھنے کے لہجے میں کہتی ہیں، ’’ہم کیسے اپنی بیٹیوں کو محفوظ رکھ پائیں گے، جب وہ اتنی بڑی ہو گئی ہیں کہ بچے پیدا کر سکیں؟‘‘ سونو کی ماں چمپا، جن کی عمر بھی ۲۷ سال کے قریب ہے، کہتی ہیں کہ ان کی عمر بھی اپنی بیٹی جتنی، یعنی ۱۳ سال تھی جب ان کی شادی ہوئی تھی۔ ہمارے آس پاس اکٹھا ہوئیں سبھی ۶ عورتوں کا کہنا تھا کہ اس بستی میں ۱۳-۱۴ سال کی عمر میں بچیوں کی شادی کرنا کوئی استثنا نہیں، بلکہ اصول کی طرح ہے۔ رانی کہتی ہیں، ’’ہمارا گاؤں کسی اور دور میں جی رہا ہے۔ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہم مجبور ہیں۔‘‘
اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار اور چھتیس گڑھ کے کئی ضلعوں میں کم عمری کی شادی کا رواج بہت عام ہے۔ سال ۲۰۱۵ میں انٹرنیشنل سنٹر فار ریسرچ آن ویمن اور یونیسیف کے ذریعے مل کر ضلع کی سطح پر کیے گئے ایک مطالعہ کے مطابق، ’’ان ریاستوں کے تقریباً دو تہائی ضلعوں میں پچاس فیصد سے زیادہ عورتوں کی شادی ۱۸ سال کی عمر سے پہلے ہو گئی تھی۔‘‘
کم عمری کی شادی کی روک تھام کے قانون، ۲۰۰۶ میں ایسی شادیوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، اگر لڑکی کی عمر ۱۸ سال اور لڑکے کی عمر ۲۱ سال سے کم ہو۔ ایسی شادی کی اجازت دینے یا اسے مشتہر کرنے پر دو سال کی قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے کا التزام ہے۔












